Saturday, February 15, 2014

نجاست پر سجدہ کرنا از روئے علمائے اھلسنت




ھم شیعان حیدر کرار پر طعن بازی ھوتی ھے کہ یہ لوگ مٹی پر سجدہ کرتے ھیں



دلچسپ بات یہ ھے کہ احناف کے امام اعظم، ابو حنیفہ کی نظر میں پیشاب پر سجدہ کرے میں بھی کوئی حرج نہ تھا



طحاوی اپنی کتاب میں لکھتے ھیں 




في النجاسة موضع القدمين أو السجود
بشر بن الوليد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة إذا كان في موضع قدميه بول أكثر من قدر الدرهم فصلاته فاسدة ولا تفسد عليه في موضع السجود .




الطحاوي الحنفي، ابوجعفر أحمد بن محمد بن سلامة (متوفاي321هـ)/ الجصاص، مختصر اختلاف العلماء، ج1، ص261، تحقيق: د. عبد الله نذير أحمد، ناشر: دار البشائر الإسلامية - بيروت، الطبعة: الثانية، 1417هـ



اگر نجاست پیروں کے درمیان ھو یا سجدے کی جگہ پر ھو
بشر بن ولید نے ابو یوسف سے اور انہوں نے ابو حنیفہ سے نقل کیا ھے کہ اگر پیروں کے درمیان پیشاب ھو، اگرچہ ایک درھم جتنا ہی ھو، نماز فاسد ھے، تا ھم اگر سجدے کی جگہ پر ھو، تو پھر نماز فاسد نہیں 




اسی طرح عبدلعزیز بخاری لکھتے ھیں 





روى أبو يوسف عن أبي حنيفة رحمهما الله أن النجاسة في موضع السجود لا تمنع عن الجواز.



البخاري، علاء الدين عبد العزيز بن أحمد (متوفاي 730هـ)،كشف الأسرار عن أصول فخر الإسلام البزدوي، ج2، ص490، تحقيق: عبد الله محمود محمد عمر، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1418هـ - 1997م.




ابو یوسف نے ابو حنیفہ سے نقل کیا ھے کہ اگر نجاست سجدے کی جگہ پر ھو، وہ نمازی کو جگہ سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روکتی (یعنی سجدہ کر سکتے ہیں )




اسی طرح علاء الدين کاشانی نے لکھا 





وَإِنْ كانت النَّجَاسَةُ في مَكَانِ الصَّلَاةِ فَإِنْ كانت قَلِيلَةً تَجُوزُ على أَيِّ مَوْضِعٍ كانت لِأَنَّ قَلِيلَ النَّجَاسَةِ عَفْوٌ في حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ عِنْدَنَا على ما مَرَّ وَإِنْ كانت كَثِيرَةً فَإِنْ كانت في مَوْضِعِ الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ تَجُوزُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ وَعِنْدَ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ لَا تَجُوزُ وَجْهُ قَوْلِهِمَا أَنَّهُ أَدَّى رُكْنًا من أَرْكَانِ الصَّلَاةِ مع النَّجَاسَةِ فَلَا يَجُوزُ.




الكاساني الشاشي الحنفي، علاء الدين أبي بكر بن مسعود بن احمد الملقب بملك العلماء (متوفاي 587هـ)، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج1، ص82، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1982م.




اور اگر نجاست اس جگہ ھو جہاں نماز پڑھی جا رہی ھو، اور وہ قلیل ھو، وہاں نماز پڑھنا جائز ھے، کیوں کہ قلیل نجاست نماز کے معاملہ میں معاف ھے ھماری نظر میں۔ اور اگر کثیر تعداد میں ھو، اور اس مقام پر ھو، جہاں ہاتھ اور گھٹنے آ رھے ھوں، تو بھی ھمارے تین اصحاب {ابو یوسف، ابو حنیفہ، شیبانی} کی نظر میں جائز ھے، تاھم زفر اور شافعی کی نظر میں جائز نہیں؛ ان کے مطابق نمازی نے اپنے ایک رکن کو نجاست پر رکھا ھے، اور یہ جائز نہیں 




سوال یہ ھے کہ ھمارے مٹی پر سجدہ کرنے پر تو اعتراض ھو، یہاں پر پیشاب اور نجاسات پر بھی کوئی مسئلہ نہیں




جہاں تک طحاوی، علاء الدين عبد العزيز البخاري اور أبي بكر بن مسعود الكاساني الشاشي الحنفي کے مقام کا سوال ھے، اس پر میں نے انگریزی مقالہ میں سیر حاصل بحث کی ھے

http://ahlubait.wordpress.com/2012/06/15/prostrating-on-nijisimpure-things-in-view-of-scholars-of-ahlusunnah/

No comments:

Post a Comment