سلفی عالم، زبیر علی زئی سے سوال کیا گیا، جو کہ اس تھریڈ کا نام بھی ہے، اور یہ ان کی کتاب، فتاوئ علمیہ المعروف توضیح الاحکام، ۲/۴۸۴ پر اس عنوان کے تحت درج ہے
Quote
جہاد قسطنطنیہ کی بشارت اور یزید کی شمولیت
زبیر صاحب فرماتے ہیں
Quote
صحیح بخاری میں ہے کہ نبی پاک نے فرمایااول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھممیری امت میں سے جو پہلا لشکر، قیصر کے شہر (یعنی قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا، انہیں بخش دیا گیا ہےاس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قسطنطنیہ پر کئی حملے ہوں گے اور پہلا حملہ آور لشکر اس پیش گوئی کا مصداق ہے- ہمارے تحقحق میں قسطنطنیہ پر عہد صحابہ میں درج ذیل بڑے حملے ہوئے ہیں۱- سفیان بن عوف کا حملہ (الاصابہ، ۲/۵٦)۔ یہ حملہ ۴۸ ھ کے لگ بھگ ہوا (محاضرات الامم الاسلامیہ، ۲/۱۱۴)۲- ۳۲ھ میں معاویہ بن ابو سفیان کا قسطنطنیہ پر حملہ (البدایہ والنہایہ، ۷/۱٦٦)۳- عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا حملہ (سنن ابی داود، ۲۵۱۲؛ و سندہ صحیح)عبدالرحمن بن خالد کی وفات ۴٦ ھ میں ہوئی (البدایہ، ۸/۳۲)سیدنا معاویہ کے دور میں قسطنطنیہ پر صیفی (گرمیوں والے) اور شتائی (سردیوں والے) حملے شعبان ۴۸ ھ تا ربیع الثانی ۵۲ھ تک تقریبا ۱٦ حملے ہوئے تھے- آخری حملے میں ابو ایوب انصاری فوت ہو گئے تھے- اس غزوے میں یزید بن معاویہ موجود تھا - اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یزید کا اول جیش میں موجود ہونا ثابت نہیں- لہذا وہ اس حدیث کے عموم میں شامل نہیں ہے
زیبر علی زئی صاحب نے اس مسئلے پر کافی سیر حاصل بحث اپنی کتاب، تحقیقی اصلاحی اور علمی مقالات کے پہلے جلد میں صفحہ ۳۰۵ پر، کی ہے۔ جو قارئین مزید پڑھنے کے خواہشمند ہوں، اس کی طرف رجوع کریں
No comments:
Post a Comment