Monday, February 17, 2014

معاویہ کا متعہ کرنا: معتبر اسناد

 
نواصب کا کمال یہ ہے کہ شیعوں پر طعن کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اور متعہ کو زنا تک قرار دینے سے نہیں چوکتے؛ مگر اس کے بر عکس ہمیں یہ ملتا ہے کہ ان کے اپنے بڑے اس معاملے میں پیچھے نہیں رہے، اور متعہ سے مستفید ہوتے رہے، یہ الگ بات کہ نواصب سادہ لوح اہلسنت کو اس سے آگاہ نہیں کرتے 
 
ہم آپ کو معتبر اسناد سے یہ دکھلاتے ہیں کہ معاویہ نے متعہ کیا۔ اور یہ آنحضرت کے وفات کے بعد کا واقعہ ہے
 
مشہور اہلسنت عالم، عبدالرزاق ابن ہمام، جو کہ بخاری کے شیوخ میں ہیں؛ اپنی کتاب المصنف، جلد ۷، صفحہ ۴۹٦-۴۹۷؛ لکھتے ہیں
 
 
ابن جریج عطا سے روایت کرتے ہیں کہ پہلا شخص کے جس سے میں نے متعہ کے بارے میں سنا، وہ صفوان بن یعلی تھا۔ اس نے کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ معاویہ نے طائف میں متعہ کیا؛ مگر میں نے اس کی تردید کی۔ سو ہم ابن عباس سے ملے، اور اس کا کچھ تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ مگر میں نے نہ مانا۔ یہ رہا یہاں تک کہ ہم جابر بن عبداللہ سے ملے، ہم ان کے گھر آئے، اور لوگوں نے ان سے سوال پوچھے۔ پھر متعہ کی بات چھڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی پاک کی زندگی میں متعہ کیا، پھر ابو بکر کی زندگی میں، اور پھر عمر کے زمانے میں یہاں تک کہ ان کی خلافت کے آخری عرصے میں عمر ابن حریث نے متعہ کیا ایک عورت کے ساتھ، جابر نے اس کا نام لیا تاہم میں بھول گیا۔ وہ حاملہ ہو گئی، اور یہ بات عمر تک پہنچی، عمر نے اسے بلایا اور اس بارے میں پوچھا
 
عطا نے پھر کہا کہ میں نے ابن عباس سے سنا کہ اللہ عمر پر رحم کرے، متعہ اللہ کی جانب سے ایک رخصت تھی امت محمدیہ کے لیے۔ اگر اسے منع نہ کیا جاتا، تو سوائے شقی کے، کوئی زنا نہ کرتا
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
14021 - عبد الرزاق عن ابن جريج عن عطاء قال : لاول من سمعت منه المتعة صفوان بن يعلى ، قال : أخبرني عن يعلى أن معاوية
استمتع بامرأة بالطائف ، فأنكرت ذلك عليه ، فدخلنا على ابن عباس ، فذكر له بعضنا ، فقال له : نعم ، فلم يقر في نفسي ، حتى قدم جابر ابن عبد الله ، فجئناه في منزله ، فسأله القوم عن أشياء ، ثم ذكروا له المتعة ، فقال : نعم ، استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأبي بكر ، وعمر  ، حتى إذا كان في آخر خلافة عمر استمتع عمرو بن حريث بامرأة - سماها جابر فنسيتها - فحملت المرأة ، فبلغ ذلك عمر ، فدعاها فسألها ، فقالت : نعم ، قال : من أشهد ؟ قال عطاء : لا أدري قالت : أمي ، أم وليها ، قال : فهلا غيرهما ، قال : خشي أن يكون دغلا الاخر  ، قال عطاء : وسمعت ابن عباس يقول : يرحم الله عمر ، ما كانت المتعة إلا رخصة من الله عزوجل ، رحم بها أمة محمد صلى الله عليه وسلم ، فلو لا نهيه عنها ما احتاج إلى الزنا إلا شقي
 

 
 
 
اس روایت سے ہمیں معلوم پڑھا کہ معاویہ نے طائف میں متعہ کیا۔ اور جابر نے اس بات کی گواہی دی کہ متعہ عمر کی خلافت کے آخری عرصہ میں منع ہوا۔ نیز ابن عباس نے کہا کہ اگر عمر اس سے منع نہ کرتا، تو سوائے بدبخت کے کوئی زنا نہ کرتا
 
با الفاظ دیگر، ابن عباس کی نظر میں متع زنا نہیں، بلکہ زنا سے بچاو کا ذریعہ تھا
 
 
جہاں تک روایت کی سند کا سوال ہے، شیخ ابن باز انے فتاوی، جلد ۲۰، صفحہ ۳۷۸ پر فرماتے ہیں
 
 
جہاں تک معاویہ ہے، عبدالرزاق نے صفوان کی سند سے بتلایا کہ معاویہ نے طائف میں متعہ کیا، اور اس کی سند صحیح ہے
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
 وأما معاوية فأخرجه عبد الرزاق من طريق صفوان بن يعلى بن أمية ، أخبرني يعلى أن معاوية استمتع بامرأة بالطائف ، وإسناده صحيح
 

 
 
ایک اور روایت پیش کرتے ہیں
 
 
عبدالرزاق نے اسی جلد کے صفحہ ۴۹۹ پر ایک سند کے ساتھ روایت لکھی


Quote
 
14025 - عبد الرزاق عن ابن جريج قال : أخبرني أبو الزبير قال : سمعت جابر بن عبد الله يقول : استمتعنا أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ، حتى نهي  عمرو بن حريث ، قال : وقال جابر : إذا انقضى الاجل فبدا لهما أن يتعاودا ، فليمهرها مهرا آخر ، قال : وسأله بعضناكم تعتد ؟ قال : حيضة واحدة ، كن يعتددنها للمستمتع  منهن.
 

 
 
اس روایت میں جابر کہہ رہے ہیں کہ اصحاب رسول نے متعہ کیا حتی کہ عمرو بن حریث کے واقعہ کے بعد یہ منع ہوا۔ اور جابر نے کہا کہ اگر مقررہ وقت ختم ہو جائے، تو پھر سے پہلی والی مہر دو دوبارہ متعہ شروع ہونے سے پیشتر؛ لوگوں نے سوال کہ کہ اس کی عدت کتنی ہے، تو کہا کہ ایک حیض کی مدت
 
 
یہ روایت تو تبرک کے طور پر آ گئی، بات اس کے سند کی ہو رہی تھی
 
 
اس سے اگلی سند میں عبدالرزاق کہتے ہیں کہ
 
 
اور ابو زبیر نے کہا کہ میں نے جابر کو سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ معاویہ نے طائف میں ابن الحضرمی کی کنیز کے ساتھ متعہ کیا، اور اس کا نام معانہ تھا۔ جابر نے کہا کہ وہ معاویہ کے زمانے تک رہی، اور وہ اسے ہر سال تحائف بھیجا کرتا تھا اس کے مرنے تک
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
14026 - وقال أبو الزبير : وسمعت جابر بن عبد الله يقول : استمتع معاوية ابن أبي سفيان مقدمه من (4) الطائف على ثقيف ، بمولاة ابن الحضرمي يقال لها معانة (5) ، قال جابر : ثم أدركت معانة خلافة معاوية حية ، فكان معاوية يرسل إليها بجائزة في كل عام حتى ماتت.
 

 
اس سند کے سارے راوی ثقہ اور مشہور ہیں- اگرچہ ابن جریج اور ابو زبیر پر تدلیس کا الزام ہے، تاہم دونوں نے سماعت کی وضاحت کی ہے
 
 
مزید تفصیل کے لیے ہمارے انگریزی مقالوں کی طرف رجوع کریں
 
 
 
 

No comments:

Post a Comment