Saturday, February 15, 2014

شیخ البانی کا مسئلہ تدلیس میں کوئی اصول نہیں تھا؟


سلفی عالم، زبیر علی زئی، اپنی کتاب، فتاوئ علمیہ المروف توضیح الاحکام، ۲/۳۳۰ پر لکھتے ہیں
 
 
معلوم ہوا کہ البانی صاحب کسی طبقاتی تقسیم مدلسین کے قائل نہیں تھے۔ بلکہ وہ اپنی مرضی کے بعض مدلسین کی معنعن روایت کو صحیح اور مرضی کے خلاف بعض مدلسین کی معنعن روایات کو ضعیف قرار دیتے تھے- اس سلسلے میں ان کا کوئی اصول یا قاعدہ نہیں تھا لہذا تدلیس کے مسئلے میں ان کی تحقیقات سے استدلال غلط و مردود ہے
 
 
گویا، وہابیوں کا ایک مشھور عالم اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرتا تھا 

No comments:

Post a Comment