Saturday, February 15, 2014

ارتداد صحابہ کے شیعہ روایات پر ایک نظر




شیعان حیدر کرار پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ھے کہ یہ لوگ صحابہ کو مرتد کہتے ھیں، اور اس کے لیے روایات کا سہارا لیا جاتا ھے کہ جس میں ارتداد یا اھل ردۃ کا لفظ استعمال ھوا ھے


جن شیعہ روایات سے استدلال قائم کیا جاتا ھے، ان میں سے ایک روایت الکافی کی ھے۔ اس میں آتا ھے


341 - حنان، عن أبيه، عن أبي جعفر (ع) قال: كان الناس أهل ردة بعد النبي (صلى الله عليه وآله) إلا ثلاثة فقلت: ومن الثلاثة؟ فقال: المقداد بن الاسود وأبوذر الغفاري و سلمان الفارسي رحمة الله وبركاته عليهم ثم عرف اناس بعد يسير وقال: هؤلاء الذين

دارت عليهم الرحا وأبوا أن يبايعوا حتى جاؤوا بأمير المؤمنين (ع) مكرها فبايع وذلك قول الله تعالى: " وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين (1) ". 

امام ابو جعفر سے روایت آتی ھے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے بعد لوگ اھل ردۃ میں ھو گئے تھے، سوائے ۳ کے۔ میں نے پوچھا کہ کون تھے وہ: فرمایا: مقداد، ابو ذر اور سلمان- رحمة الله وبركاته عليهم- اس کے بعد لوگوں نے وقت گذرنے کے ساتھ جان لیا -

پھر امام نے کہا: یہ وہ لوگ تھے جو چکی کے پتھر کے مانند رھے، اور انھوں نے بیعت نہ کی حتی کہ امیر المومنین کے پاس آئے مجبوری میں اور ان کی بیعت کی۔ اور یہ ھے معنی اس ایت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


(الکافی، جلد ۸، صفحہ ۲۴٦-۲۴۷) 


اس روایت میں کہیں پر بھی کسی صحابی کے مرتد ھونے کا ذکر نہیں ۔ نہ ھی یہ لفظ استعمال ھوا ھے۔
نہ ھی کہیں یہ آیا ھے کہ صحابہ نے اسلام کا انکار کیا، نہ ھی یہ کہ وہ توحید کے منکر ھوئے، یا رسالت کا انکار کیا
بلکہ بیعت کا ذکر ھوا ھے۔ اور بتایا گیا ھے کہ آخر کار امام علی کی بیعت ھوئی-


اچھا ایک اور روایت سے بھی استدلال قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ھے


یہ روایت رجال کشی سے لی گئی ھے


علي بن الحكم، عن سيف بن عميرة عن أبي بكر الحضرمي، قال : قال أبو جعفر (عليه السلام) ارتد الناس إلا ثلاثة نفر سلمان و أبو ذر و المقداد. قال : قلت فعمار ؟

قال : قد كان جاض جيضة ثم رجع، ثم قال إن أردت الذي لم يشك و لم يدخله شي‏ء فالمقداد، فأما سلمان فإنه عرض في قلبه عارض أن عند أمير المؤمنين (عليه السلام) اسم الله الأعظم لو تكلم به لأخذتهم الأرض و هو هكذا فلبب و وجئت عنقه حتى تركت كالسلقة فمر به أمير المؤمنين (عليه السلام) فقال له يا أبا عبد الله هذا من ذاك بايع فبايع و أما أبو ذر فأمره أمير المؤمنين (عليه السلام) بالسكوت و لم يكن يأخذه في الله لومة لائم فأبى إلا أن يتكلم فمر به عثمان فأمر به، ثم أناب الناس بعد فكان أول من أناب أبو ساسان الأنصاري و أبو عمرة و شتيرة و كانوا سبعة، فلم يكن يعرف حق أمير المؤمنين (عليه السلام) إلا هؤلاء السبعة. 

امام ابو جعفر علیہ السلام نے کہا کہ لوگوں نے ارتداد کیا سوائے ۳ کے۔ سلمان، ابو ذر اور مقداد۔ راوی نے پوچھا کہ عمار کے متعلق کیا؟ امام نے کہا کہ وہ تھوڑا سے بہکے مگر پھر رجوع کر لیا۔ ُپھر کہا اگر اسے جاننا چاھو کہ جس کے دل میں ذرا بھی شک نہیں آیا، وہ مقداد تھا۔ جہاں سلمان کا ذکر ھے، ان کا دل بھی عارضے میں مبتلا ھوا تھا کہ امام علی کہ پاس تو اللہ کا اسم اعطم ھے، اگر وہ اس کے ذریعے کلام کریں تو زمین ان لوگوں کو نگل لے۔ پھر یہ کیا ھے - پھر ان کو پکڑا گیا اور گلے میں پھندا پڑ گیا حتی کہ چھل گیا۔ پھر امام علی وھاں سے گذرے اور کہا کہ اے ابو عبداللہ! یہ اس وجہ سے ھے۔ بعیت کر لو، سو بیعت کی ۔ اور جہاں تک ابو ذر کا حال ھے، انہیں امام علی نے کہا کہ خاموش رھو اور کوئی بات نہ کرو، تاکہ کوئی گرفت میں نہ لے، مگر وہ بولے اور عثمان نے پھر حکم دیا (باھر نکالنے کا)۔ پھر لوگ واپس آ گئے، اور پہلے لوگ أناب أبو ساسان الأنصاري اور أبو عمرة اور شتيرة تھے، اور یہ ۷ لوگ تھے ۔ اور کوئی امام علی کا حق نہیں جانتا تھا سوائے ان ۷ کے 



یاد رھے کہ یہ روایت سند کے حوالے سے ضعیف مانی جاتی ھے، کیوں کہ اس میں انقطاع ھے۔ شیخ جعفر سبحانی نے بھی لکھا


وكفى في ضعفها أن الكشي من أعلام القرن الرابع الهجري القمري ، فلا يصح أن يروي عن علي بن الحكم ، سواء أكان المراد منه الأنباري الراوي عن ابن عميرة المتوفى عام ( 217 ه* ) أو كان المراد الزبيري الذي عده الشيخ من أصحاب الرضا ( عليه السلام ) المتوفى عام 203 ه* . 

اس میں ضعف کے لیے اتنا ھی کافی ھے کہ کشی چوتھی صدی ھجری کے عالم ھیں اور یہ صحیح نہیں کہ وہ علی بن حکم سے روایت کریں- اب یہ تو اس سے مراد الانباری ھیں جو ابن عمیرہ سے روایت کر رھے ھیں جو کہ ۲۱۷ ھجری میں مرے، یا پھر زبیری جو کہ امام رضا کے صحابی ھیں اور ۲۰۳ ھجری میں مرے 


(أضواء على عقائد الشيعة الإمامية - الشيخ جعفر السبحاني ص ۵۲۳) 

کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ھیں کہ کشی کی علی بن حکم تک سند صحیح ثابت ھے۔ مگر کشی کی علی بن حکم تک مختلف اسناد ھیں


ایک مثال یہ لیں


93 - محمد بن مسعود، قال حدثني علي بن محمد، قال حدثني محمد بن أحمد بن يحيى، عن محمد بن الشقري، عن علي بن الحكم، 

(اختيار معرفة الرجال - الشيخ الطوسي - ج ١ - الصفحة ٢٣٥)

اس سند میں محمد بن الشقري ھی کی مثال لے لیں

آغہ جواھری نے المفید من معجم رجال الحدیچ میں لکھا


980 - محمد بن الشقري : روى عن علي بن الحكم عن فضیل بن عثمان عن أبي الزبیر - 10953 - 10958

قال : رأیت جابرا یتوكأ على عصاه وھو یدور في

سكك المدینة ومجالسھم وھو یقول علي خیر البشر فمن أبى فقد كفر . . . " - مجھول



اب یہ مجھول ھیں۔


اب اس بات کا کیا ثبوت ھے کہ کشی نے اس روایت میں کونسی سند کو استعمال کیا ، یہی اس بات کو ضعیف ثابت کر دیتی ھے

سند کی کمزوری سے قطع نظر، اگر روایت پر بھی غور کیا جائے، تو صاف ملتا ھے کہ یہاں بھی امام علی کے حق کی بات ھو رھی ھے


فلم يكن يعرف حق أمير المؤمنين (عليه السلام) إلا هؤلاء السبعة

کوئی امام علی کا حق نہیں جانتا تھا سوائے ان ۷ کے


جبکہ دیگر لوگ اس حق سے منحرف بتائے گئے ھیں

اور یہی ارتداد کا مطلب بن رھا ھے۔ نہ کہ توحید و رسالت کا انکار


ان ۲ روایات کے علاوہ بھی ھمارے پاس کچھ روایات آتی ھیں، مثال کے طور پر



17 - محمد بن إسماعيل قال حدثني الفصل بن شاذان عن ابن أبي عمير عن إبراهيم بن عبد الحميد عن أبي بصير قال : قلت لأبي عبد الله ارتد الناس الا ثلاثة أبو ذر وسلمان والمقداد قال : فقال أبو عبد الله ع : فأين أبو ساسان وأبو عمرة الأنصاري ؟


ابو بصیر نے امام ابو عبداللہ علیہ السلام سے پوچھا کہ لوگوں نے ارتداد کیا سوائے ۳ کے، ابو ذر، سلمان اور مقداد۔ امام نے کہا: پھر ابو ساسان اور ابو عمرۃ انصاری کہاں گئے؟

(اختيار معرفة الرجال الطوسي؛ جلد ۱، صفحہ ۳۸)


اور بھی کچھ روایات ھیں، جیسے کتاب سلیم بن قیس میں آتا ھے


إن الناس كلهم ارتدوا بعد رسول الله صلى الله عليه وآله غير أربعة

(كتاب سليم بن قيس صفحة ۱٦۲)


اس کتاب کے بارے میں اختلاف ھے، اس وجہ سے اس روایت پر ھم زیادہ بحث نہیں کریں گے


اس کے علاوہ الاختصاص، جو کہ شیخ مفید سے منسوب کتاب ھے، اور اس کتاب کے بارے میں ھی اختلاف ھے۔ اس میں بھی کچھ روایات کا ذکر ھے- اور کتاب کے مختلف فیہ ھونے کی وجہ سے ھم ان روایات پر روشنی ںہیں ڈالیں گے


مگر جو لفظ ھمیں اب تک ملا ھے، وہ یا تو شیخ کلینی کی روایت میں أهل ردة ھے، یا پھر ان روایات میں ارتداد۔


اور یہ الفاظ دکھا کر اکثر سادہ لوح اھلسنت افراد کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ھے کہ شیعہ صحابہ کے مرتد ھونے کے قائل ھی

سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اس لفظ کہ معنی کیا ھیں، اور کیا یہ لفظ اھلسنت کے ھاں بھی استعمال ھوا ھے


معنی دیکھنے کے لیے ھم لسان العرب کا سہارا لیتے ھیں۔ یہ کتاب ابن منظور کی ھے، جو کہ اھلسنت کے ھاں ایک مشھور عالم ھیں


ان کی دیگر کتب میں، مختصر تاريخ دمشق لابن عساكر اور نثار الأزهار في الليل والنهار شامل ھیں



اپنی کتاب،http://www.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=3094&idto=3094&bk_no=122&ID=3099'> لسان العرب میں فرماتے ھیں


والردة : الاسم من الارتداد . وفي حديث القيامة والحوض فيقال : إنهم لم يزالوا مرتدين على أعقابهم أي : متخلفين عن بعض الواجبات 

اور ردۃ، یہ اسم ھے ارتداد کا۔ جیسے کہ قیامت اور حوض والی حدیث میں آتا ھے: کہ یہ قائم نہ رھے، بلکہ مرتد ھوئے اور پلٹ گئے۔ اس کا مطلب ھے کہ بعض واجبات کی خلاف ورزی کی




یہی بات ابن اثیر نے http://www.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?bk_no=121&ID=196&idfrom=1350&idto=1585&bookid=121&startno=65'>النهاية في غريب الحديث والأثر میں لکھی ھے



اب یہ حوض والی روایت بھی آپ کے نظر سے گذارتے چلیں کہ جس کی طرف اشارہ ھو رھا ھے




فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : " إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى 

رسول اللہ کہتے ھیں کہ میں کہوں گا کہ اے رب ! یہ میرے صحابی ھیں، تو جواب ملے گا کہ آپ علم نہیں رکھتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ انہوں نے ارتداد کیا اور اپنے پیروں پر واپس پلٹ گئے۔




اور دوسری روایت بخاری کی، جس کی طرف ابن منظور نے اشارہ کیا، اسمِیں تو لفظ مرتد کا استعمال ھے


فَأَقُولُ أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ





ان روایات میں لفظ مرتد اور ارتداد کا استعمال ھے



اگر ھم صحیح مسلم دیکھیں، تو ھم کو ایک باب ملتا ھے کتاب الایمان میں



باب بيان معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض 

باب اس بات کے بیان کا کہ نبی پاک نے کہا کہ میرے بعد کافر نہ ھو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو


65 حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن المثنى وابن بشار جميعا عن محمد بن جعفر عن شعبة ح وحدثنا عبيد الله بن معاذ واللفظ له حدثنا أبي حدثنا شعبة عن علي بن مدرك سمع أبا زرعة يحدث عن جده جرير قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع استنصت الناس ثم قال لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض وحدثنا عبيد الله بن معاذ حدثنا أبي حدثنا شعبة عن واقد بن محمد عن أبيه عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله 

رسول اللہ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کو خاموش کرایا اور کہا کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ ھو جانا





یہ روایت دیگر اسناد سے بھی موجود ھے



66 وحدثني أبو بكر بن أبي شيبة وأبو بكر بن خلاد الباهلي قالا حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن واقد بن محمد بن زيد أنه سمع أباه يحدث عن عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال في حجة الوداع ويحكم أو قال ويلكم لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض حدثني حرملة بن يحيى أخبرنا عبد الله بن وهب قال حدثني عمر بن محمد أن أباه حدثه عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل حديث شعبة عن واقد 




اب ظاھری سی بات ھے کہ علمائے اھلسنت کو یہ باتیں بتانا نہ تو پسند ھے، اور نہ ھی ان کی یہ خواھش ھے کہ عوام الناس ان باتوں کو جانے۔ ھاں شیعوں پر الزام تراشی چونکہ آسان ھے، اس وجہ سے انہوں نے اس کا ڈھنڈورا خوب پیٹا


تو پہلے مرحلے میں وہ اس باب کو ھی حذف کر گئے، جیسا کہ جب ھم صحیح مسلم، ترجمہ علامہ وحید الزمان، ناشر خالد احسان پبلشرز، لاھور، سن اشاعت اگست ۲۰۰۴، دیکھتے ھیں تو یہ باب ھی فہرست میں سے غائب ھے


جبکہ دیگر ممالک سے شائع شدہ کتب میں یہ باب موجود ھے


مندرجہ ذیل لنک میں آپ حضرات سکین دیکھ سکتے ھیں


http://ahlubait.wordpress.com/2012/12/24/tehreef-in-urdu-version-of-sahih-muslim-2/'>Tehreef in Urdu version of Sahih Muslim « slave of Ahlubait's Blog




اور امام نووی نے اس حدیث کی وضاحت کے لیے ۷ مختلف اقوال درج کیے ھیں۔ اب یہ ھمارا موضوع نہیں کہ ھم اس پر بحث کریں، مگر یہ بات طے شدہ ھے، اور سب جانتے ھیں کہ صحابہ آپس میں لڑے، اور اسی کو بجانے کے لیے مختلف تاویلات کا سہارا لیا گیا،


پھر کیا وجہ ھے کہ شیعان حیدر کرار پر ھی الزام تراشی کی جائے؟ جب کہ لفظ ان شیعہ کتب میں تو صرف اھل ردۃ یا ارتداد کا ذکر ھے، جبکہ اھسلنت کی معتبر کتب اور مستند احادیث میں تو۔۔۔۔ ارتداد، مرتد، کفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سب کا صحابہ کے لیے استعمال موجود ھے۔۔۔۔۔



شیعہ حضرات پر الزام تراشی کی نسبت بہتر ںہیں کہ علمائے اھلسنت ان روایات کو بھی عام الناس کے سامنے پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

No comments:

Post a Comment