Monday, February 17, 2014

رسول اللہ کا امام علی علیہ السلام سے فرمانا کہ یہ امت تم سے غداری کرے گی

 
رسول اللہ نے مولا علی کو یہ بات بتلا دی تھی کہ یہ امت آپ سے غداری کرے گی۔ اور اس مختصر سی تحریر میں ہم ان روایات کو پیش کریں گے، نیز علمائے اہلسنت کی زبانی ان کے معتبر ہونے کی بھی وضاحت کریں گے
 
 
أبو العباس شهاب الدين بوصیری اپنی کتاب، إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة، جلد ۷، صفحہ ۱۸٦، طبع دار الوطن للنشر، الرياض؛ میں فرماتے ہیں کہ 
 
 
مولا علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ یہ امت آپ کے ساتھ غداری کرے گی۔ اس کی روایت کی ابو بکر ابن ابی شیبہ نے حسن سند کے ساتھ، اور حارث ابن ابی اسامہ اور بزار نے بھی 
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
6635 - وعن ثعلب بْنِ يَزِيدَ الْحِمَّانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأُمِيِّ إِلَيَّ: أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ (سَتَغْدُرُكَ) مِنْ بَعْدِي ".
رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَالْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ وَالْبَزَّارُ.
 

 
 
 
 
اسی طرح مشہور عالم، امام حاکم نے اپنی مستدرک، (مع تلخیص ذہبی)، جلد ۴، صفحہ ۲۳۷؛ میں ایک دوسری سند کے ساتھ اس کو درج کیا، اور علامہ ذہبی نے اپنی تلخیص میں اس کو صحیح مانا 
 
 
 
عربی متن یوں ہے  

Quote
 
 
4676 – حدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الجمحي بمكة ثنا علي بن عبد العزيز ثنا عمرو بن عون ثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن أبي إدريس الأودي عن علي رضي الله عنه قال : إن مما عهد إلي النبي صلى الله عليه و سلم أن الأمة ستغدر بي بعده
هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه
تعليق الذهبي قي التلخيص : صحيح

 
 
 
 
 
بوصیری نے جس سند کو حسن کہا تھا، وہ ثعلبہ الحمانی سے مروی تھا، جبکہ یہ رویات ابو ادریس الاودی سے مروی ہے 
 
 
گویا یہ ۲ مختلف اسناد ہیں، اور ایک دوسرے کو قوت پہنچاتی ہیں
 
 
اس روایت کی تقویت ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام حاکم نے اپنی مستدرک میں درج کی، اور ہمارے بیان کردہ روایت، جس کا نمبر ۴٦۷٦ تھا، اس سے اگلی حدیث ہے کہ 
 
 
ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اے علی! تم میرے بعد ازمائشیں دیکھو گے۔ مولا نے کہا کہ کیا یہ میرے دین کی سلامتی کے ساتھ ہو گا؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، آپ کے دین کی سلامتی کے ساتھ ہو گا
حاکم کے مطابق یہ حدیث بخاری و مسلم کے شرط پر صحیح ہے
ذہبی نے کہا کہ بخاری و مسلم کے شرط پر صحیح ہے
 
 
عربی متن یوں ہے 


Quote
 
4677 - أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه البخاري ثنا سهل بن المتوكل ثنا أحمد بن يونس ثنا محمد بن فضيل عن أبي حيان التيمي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم لعلي أما أنك ستلقى بعدي جهدا قال في سلامة من ديني ؟ قال : في سلامة من دينك
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه
هذا حديث صحيح علىشرط الشيخين و لم يخرجاه
تعليق الذهبي قي التلخيص : على شرط البخاري ومسلم
 

 
 
اس کی تائید میں ایک اشارہ  صحیح بخاری، ۵/۱۳۹، حدیث ۴۲۴۰؛ کے اس روایت میں بھی آتا ہے کہ  جو عائشہ سے مروی ہے کہ 
 
 
  جب بی بی فاطمہ حیات تھیں، لوگ حضرت علی کی عزت کرتے تھے، مگر اس کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اب لوگوں کا ان سے برتاو بدل گیا ہے۔ تو علی نے ابو بکر سے مصالحت کی کوشش کی اور بیعت کی، اور علی نے ان مہینوں میں بیعت نہیں کی تھی۔ علی نے کسی کو بھیجا ابو بکر کے پاس، اور کہہ بھیجا کہ آپ کے ساتھ کوئی نہ آئے کیونکہ وہ کراہت رکھتے تھے کہ عمر آئے
 
 
عربی متن یوں ہے کہ 

Quote
 
وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنِ ائْتِنَا وَلاَ يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ، كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ
 

 
 

No comments:

Post a Comment