Thursday, February 27, 2014

بخاری اور صحیح بخاری

 
ہم اس مختصر سے مقالے میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی امام بخاری کی کتاب صحیح ہے؟ کیا واقعی اس کتاب میں مذکور روایات میں کسی قوم کی کوئی تحریف وغیرہ نہیں؟ کیا واقعی بخاری قابل اعتماد ہیں؟ اور انہوں نے اپنی روایات ہم تک پہنچانے میں دیانتداری سے کام لیا؟
 
 
ان سب کا جواب آپ کو اس تحریر کے اختتام پر مل جائے گا۔ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے
 

بخاری کے تدلیس کے بارے میں ذھبی کا بیان
 
 
علامہ ذھبی کے شمار اہلسنت کے عظیم علمائے رجال میں ہوتا ہے۔ اپنی کتاب میزان الاعتدال، جلد ۴، صفحہ ۱۲۲، عبداللہ بن صالح کے احوال میں؛ بیان کرتے ہیں کہ 
 
 
ان سے بخاری نے روایت کی اپنی صحیح میں، مگر انہوں نے تدلیس کی اور کہا کہ عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا، مگر ان کا نسب نہیں بیان کیا کہ عبداللہ سے مراد یہ ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
وقد روى عنه البخاري في الصحيح، على الصحيح، ولكنه يدلسه، يقول: حدثنا عبد الله ولا ينسبه، وهو هو

 
 
اسی طرح زہلی کے حالات بیان کرتے وقت، اپنی دوسری کتاب، سیر اعلام النبلا، جلد ۱۲، صفحہ ۲۷۵؛ میں بیان کرتے ہیں
 
 
اور محمد ابن اسماعیل بخار نے کثیر تدلیس کی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ محمد بن یحیی، بلکہ صرف محمد کہا یا محمد بن خالد یا محمد بن عبداللہ، دادا کی طرف منسوب کر دیا، اور نام چھپا دیا، جبکہ حقیقت اس کے درمیان تھی۔ اللہ ان کی مغفرت کرے
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
ومحمد بن إسماعيل البخاري ، ويُدلِّسُهُ كثيراً !!! ، لا يقول : محمد بن يحيى !! بل يقول محمد فقط !! أو محمد بن خالد !! أو محمد بن عبدالله ، يَنسبهُ إلى الجدّ ، ويُعَمِّي اسمه ، لمكانِ الواقع بينهما !!! غفر الله لهما

 
 
اس بیان کو ذرا میں واضح کر دوں
 
راوی کا نام ہے
 
محمد بن یحیی بن عبداللہ بن خالد بن فارس ذہلی
 
 
بخاری نے بجائے محمد بن یحیی کہنے کہ
 
 
کبھی کہا کہ صرف محمد،
کبھی محمد بن عبداللہ،
کبھی محمد بن خالد وغیرہ
 
جب کا نام محمد بن یحیی تھا
 
اس بات کی طرف اشارہ ذہبی نے ان الفاظ میں کیا کہ
 
 
ابو نصر نے کہا کہ بخاری ان سے روایت کی، اور کہا کہ مجھ سے بیان کیا محمد نے، اور ایک اور مقام پر کہا کہ مجھ سے بیان کیا محمد بن عبداللہ نے، ان کے جد سے منسوب کر دیا؛ اور ایک اور مقام پر کہا کہ مجھ سے بیان کیا محمد بن خالد نے؛ اور اس کی تصریح نہیں کی
 
 
عربی متن یوں ہے
 


Quote
 
وقال أبو نصر الكلاباذي : روى عنه البخاري ، فقال مرةً : حدثنا محمد ، وقال مرة : حدثنا محمد بن عبدالله ، نَسَبَهُ إلى جَدِّه . وقال مرة : حدثنا محمد بن خالد ، ولم يُصرِّح به
 

 
 
ابن حجر نے تو ہدیۃ الساری مقدمہ فتح الباری میں ایک مکمل باب باندھا ہے 
 
 
ان ناموں کا بیان کہ جو مہمل ہیں (واضح نہیں)، اور بہت مشترک ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
في بيان الاسماء المهملة التي يكثر اشتراكها
 

 
 
اس میں محمد بن یحیی کا ذکر بھی کیا ہے انہوں نے، اور ابو نصر اور حاکم کا ذکر کر کے بتایا ہے کہ یہ محمد بن یحیی زہلی تھے۔ دیکھیے ہدیۃ الساری مقدمہ فتح الباری، صفحہ ۲۳۴-۲۳۵، ذکر ان کا جن کا نام محمد تھا۔


نیز ابن حجر نے اپنی کتاب، طبقات المدلسین، صفحہ ۲۴، طبع مكتبة المنار - عمان؛ پر ان کا تذکرہ کیا ہے

کیا بخاری نے اپنی کتاب میں تحریف کی؟
 
 
اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کیا بخاری نے تحریف کی۔ اس میں ہم قارئین کو تھوڑی تفصیل سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے
 
 
پہلی مثال ہم آپ کو  یہ حدیث دکھلا کر کرتے ہیں
 
 
 
 
 
 
 قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان کے خاندان میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ پر حاکم مقرر ہوا، اس حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں، تو حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے (اس طرح کرنے سے) انکار کر دیا، تو اس حاکم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کہا اگر تو اس انکار کرتا ہے تو کہہ (اَلعَیَاذُ بِاللّٰہِ) ابوالتراب پر اللہ کی لعنت ہو، حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرمانے لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تو ابوالتراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہیں تھا، اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس نام سے پکارا جاتا تھا تو وہ خوش ہوتے تھے، وہ حاکم حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا ہمیں اس واقعہ کے بارے میں باخبر کرو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام ابوالتراب کیوں رکھا گیا؟ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو موجود نہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے فاطمہ!) تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میرے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ بات ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ غصہ میں آ کر باہر نکل گئے ہیں اور وہ میرے یہاں نہیں سوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: علی کو دیکھو کہ وہ کہاں ہیں؟ تو وہ آدمی (دیکھ) کر آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں سو رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور ان کی چادر ان کے پہلو سے دور ہوگئی تھی اور ان کے جسم کو مٹی لگی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جسم سے مٹی صاف کرنا شروع کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمانے لگے: ابوتراب! اٹھ جاؤ، ابوتراب! اٹھ جاؤ۔
 
 
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا عبد العزيز يعني ابن أبي حازم عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال استعمل على المدينة رجل من آل مروان قال فدعا سهل بن سعد فأمره أن يشتم عليا قال فأبى سهل فقال له أما إذ أبيت فقل لعن الله أبا التراب فقال سهل ما كان لعلي اسم أحب إليه من أبي التراب وإن كان ليفرح إذا دعي بها فقال له أخبرنا عن قصته لم سمي أبا تراب قال جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت فاطمة فلم يجد عليا في البيت فقال أين ابن عمك فقالت كان بيني وبينه شيء فغاضبني فخرج فلم يقل عندي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لإنسان انظر أين هو فجاء فقال يا رسول الله هو في المسجد راقد فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع قد سقط رداؤه عن شقه فأصابه تراب فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحه عنه ويقول قم أبا التراب قم أبا التراب
 

 
 
 
اب اسی سند سے یہ روایت بخاری نے اپنی صحیح کے کتاب  الاستئذان، باب القائلة في المسجد؛ جلد ۸، صفحہ ٦۳، حدیث ٦۲۸۰؛ میں درج کی۔ ملاحظہ ہو
 


Quote
 
 حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال ما كان لعلي اسم أحب إليه من أبي تراب وإن كان ليفرح به إذا دعي بها جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت فاطمة عليها السلام فلم يجد عليا في البيت فقال أين ابن عمك فقالت كان بيني وبينه شيء فغاضبني فخرج فلم يقل عندي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لإنسان انظر أين هو فجاء فقال يا رسول الله هو في المسجد راقد فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع قد سقط رداؤه عن شقه فأصابه تراب فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحه عنه وهو يقول قم أبا تراب قم أبا تراب
 

 
 
باقی سارا متن ویسے کا ویسا ہی ہے، صرف فرق یہ ہے کہ ان جملوں کو حذف کر دیا گیا ہے 
 


Quote
 
حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا عبد العزيز يعني ابن أبي حازم عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال استعمل على المدينة رجل من آل مروان قال فدعا سهل بن سعد فأمره أن يشتم عليا قال فأبى سهل فقال له أما إذ أبيت فقل لعن الله أبا التراب فقال سهل ما كان لعلي اسم أحب إليه
 

 
 
 
ان کا ترجمہ دوبارہ بتلا دیتے ہیں 


Quote
 
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان کے خاندان میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ پر حاکم مقرر ہوا، اس حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں، تو حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے (اس طرح کرنے سے) انکار کر دیا، تو اس حاکم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کہا اگر تو اس انکار کرتا ہے تو کہہ (اَلعَیَاذُ بِاللّٰہِ) ابوالتراب پر اللہ کی لعنت ہو، حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرمانے لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تو ابوالتراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہیں تھا

 
 
شاید بخاری صاحب کو یہ باتیں بنی امیہ کی بتلانی منظور نہ تھیں، سو انہوں نے چھری پھیر دی
 
 
تاہم یہاں پر ایک سوال جو اٹھایا جا سکتا ہے کہ شاید قیتبہ بن سعید نے یہ روایت بخاری و مسلم سے الگ الگ بیان کی ہو؟
 
 
یہ بھی چانس ہے
 
 
تو بیہقی نے سنن کبری، جلد ۲، صفحہ ۴۴٦؛ میں اس روایت کو قتیبہ سے نقل کیا، اور ان الفاظ کو نقل کیا جنہیں بخاری نے اپنی چھری کی نظر کیا؛ انہیں نقل کیا ہے
 
 
ملاحظہ ہو


Quote
 
 (انبأ) أبو عبد الله الحافظ انبأ أبو الفضل بن ابراهيم انبأ احمد بن سلمة ثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد العزيز بن ابى حازم عن ابى حازم عن سهل بن سعد قال استعمل على المدينة رجل من آل مروان فدعا سهل بن سعد فأمره ان يشتم عليا رضى الله عنه قال فابى سهل فقال له اما إذا ابيت فقل لعن الله ابا تراب فقال سهل ما كان لعلى رضى الله عنه اسم احب إليه من ابى تراب وان كان ليفرح إذا دعى بها فقال له اخبرنا عن قصته لم سمى ابا تراب قال جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت فاطمة فلم يجد عليا رضى الله عنه في البيت فقال لها اين ابن عمك فقالت كان بينى وبينه شئ فغاضبني فخرج ولم يقل عندي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لانسان انظر اين هو فجاء فقال يا رسول الله هو في المسجد راقد فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع قد سقط رداه عن شقه فاصابة تراب فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحه عنه ويقول قم ابا تراب قم ابا تراب * رواه البخاري ومسلم في الصحيح عن قتيبة بن سعيد
 

 
 
اس روایت میں احمد بن سلمہ البزار نے قتیبہ سے روایت کی، اور یہ ثقہ ہیں۔ ذہبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلا میں ان کے متعلق کہا ہے کہ کہ حافظ، حجت اور مامون تھے
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
أحمد بن سلمة ابن عبد الله : الحافظ ، الحجة ، العدل ، المأمون ، المجود أبو الفضل النيسابوري البزاز 
 

 
 
 
 
آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ قتیبہ نے روایت کرنے میں کسی قسم کی تحریف نہیں کی
 
 
ایک اور مثال ملاحطہ ہو
 
 
ابن عساکر اپنی تاریخ کے جلد ۴۲، صفحہ ۱۷، پر یہی روایت نقل کرتے ہیں
 

Quote
 
 أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل الفقيه ، والحسين بن عبد الملك الأديب ، قالا : أنا سعيد بن أحمد بن محمد بن نعيم ، ح وأخبرنا أبو سعد إسماعيل بن أبي صالح أحمد بن عبد الملك الفقيه ، وأبو عبد الله الحسين بن أحمد الفرضي ، وأبو القاسم زاهر بن طاهر ، قالوا : أنا أبو بكر أحمد بن منصور بن خلف ، قالا : أنا أبو الفضل عبيد الله بن محمد بن عبد الله بن محمد بن حفص الفامي ، ناأبو العباس محمد بن إسحاق بن إبراهيم الثقفي ، نا قتيبة بن سعيد ، نا عبد العزيز ابن أبي حازم ، عن أبي حازم ، عن سهل بن سعد ، قال : استعمل على المدينة رجل من آل مروان ، قال : فدعا سهل بن سعد ، فأمره أن يشتم عليا ، زاد ابن خلف : فأبى سهل - فقال له : وقالا - أما إذا أبيت ، فقل : لعن الله أبا تراب ، فقال سهل : ما كان لعلي اسم أحب إليه من أبي تراب ، وإن كان ليفرح إذا دعي به ، فقال له : أخبرنا عن قصته لم سمي أبا تراب ؟ قال : جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت فاطمة فلم يجد عليا في البيت ، فقال : أين ابن عمك ؟ فقالت : كان بيني وبينه شيء فغاظني ـ وقال ابن نعيم : فغاضبني ـ فخرج ولم يقل عندي ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لإنسان : " انظر أين هو ؟ " ، فجاء ، فقال : يا رسول الله ، هو في المسجد راقد ، فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع قد سقط رداؤه عن شقه فأصابه تراب ، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحه عنه ، ويقول : " قم أبا تراب ، قم أبا تراب " . رواه مسلم ، عن قتيب 
 

 
یہاں پر قیبہ سے أبو العباس محمد بن إسحاق بن إبراهيم الثقفي روایت لے رہے ہیں
 
 
ان کے متعلق ذہبی کہتے ہیں کہ یہ امام، حافظ ثقہ، شیخ السلام، خراسان کے محدث ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
السَّرَّاج‌ محمد بن إسحاق بن إبراهيم بن مهران , الإمام الحافظ الثقة , شيخ الإسلام , محدث خراسان
 

 
 
خیر، یہ دوبارہ اسی بات کو ثابت کرتا ہے کہ قتیبہ نے روایت میں کسی قسم کی بددیانتی نہیں کی
 
 
مسلم نے بھی ایسے ہی نقل کیا ہے
 
 
گویا ۳ لوگوں نے قتیبہ سے روایت نقل کی، اور الفاظ نقل کیے
 
 
اگر نہیں کیے تو اہلسنت کے امام المحدیثین نے


بخاری کی تحریف کی ایک اور مثال
 
 
کیا بخاری نے صرف اسی روایت میں تحریف کی؟
 
چلیے ایک اور مثال دیکھتے ہیں
 
 
 
 
ابن عباس نے کہا کہ عمر کے پاس خبر آئی کہ فلاں شخص شراب بیچ رہا ہے۔ عمر کے کہا کہ خدا کی لعنت ہو فلاں پر! کیا یہ علم نہیں رکھتا کہ نبی پاک نے کہا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود پر، کہ خدا نے ان پر چربی منع کی، اور انہوں نے پگلا کر بیچ دی
 
 
عربی متن یوں ہے کہ 
 


Quote
 
 حدثنا الحميدي حدثنا سفيان حدثنا عمرو بن دينار قال أخبرني طاوس أنه سمع ابن عباس رضي الله عنهما يقول بلغ عمر بن الخطاب أن فلانا باع خمرا فقال قاتل الله فلانا ألم يعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها
 

 
 
اب یہ روایت بخاری نے حمیدی سے لی، اور ان کی اپنی مسند ہے، مسند حمیدی، اس پر جلد ۱، صفحہ ۹، روایت ۱۳؛ پر یہی روایت درج کی ہے، مگر انہوں نے فلاں نہیں کہا، بلکہ نام لیا ہے کہ یہ سمرہ  ہیں
 
 
ملاحظہ ہو


Quote
 
13 - حدثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا عمرو بن دينار قال أخبرني طاوس سمع بن عباس يقول بلغ عمر بن الخطاب أن سمرة باع خمرا فقال قاتل الله سمرة ألم يعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها
 

 
 
اب یہاں پر سوال آ سکتا ہے کہ کوئی پوچھے کہ شاید حمیدی نے ہی مختلف صورتوں میں یہ روایت بیان کی ہو
 
 
چلیے، مسند حمیدی کی علاوہ ایک اور مثال دیکھ لیں
 
 
ابن عبدالبر نے اپنی کتاب، التمہید، جلد ۱۷، صفحہ ۴۰۱؛ میں یہ سند درج کی ہے


Quote
 
حدثنا سعيد بن نصر وعبدالوارث بن سفيان قالا حدثنا قاسم بن أصبغ حدثنا محمد بن إسماعيل حدثنا الحميدي حدثنا سفيان حدثنا عمرو بن دينار أخبرني طاوس أنه سمع ابن عباس يقول بلغ عمر بن الخطاب أن سمرة باع خمرا فقال قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها
 

 
اب یہاں، محمد ابن اسماعیل ابن یوسف الترمذی یہ روایت نقل کر رہے ہیں، اور یہ ثقہ اور حافظ ہیں
 
 
اور یہاں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نام مذکور ہے
 
 
اب اگر کسی نے نقل نہیں کیا نام، تو وہ بخاری صاحب ہیں


بخاری میں موجود روایات کی تحریف کی اور مثال
 
 
 
 
 
معاویہ نے مروان کو حجاز کا گورنر بنایا،اس نے ایک خطبہ دیا، اور یزید کا ذکر کیا، تا کہ لوگ اس کی بیعت کریں اور وہ معاویہ کا جانشین ہو۔ اس پر عبدالرحمن بن ابو بکر نے کچھ کہاجس پر مروان نے حکم دیا کہ اسے گرفتار کرو۔ مگر وہ عائشہ کے گھر چلا گیا، اور وہ گرفتار نہ ہو سکا- مروان نے کہا کہ عبدالرحمن کے لیے اللہ نے یہ آیت نازل کی۔  {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} [الأحقاف: 17]۔ اس پر عائشہ نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ نے قرآن میں کچھ نازل نہیں کیا سوائے میرے عذر کے
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
4827 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ فَخَطَبَ، فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لِكَيْ يُبَايَعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ: خُذُوهُ، فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا، فَقَالَ مَرْوَانُ: إِنَّ هَذَا الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ، {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} [الأحقاف: 17]، فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الحِجَابِ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنَ القُرْآنِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِي»
 

 
 
روایت میں یہ بات کہی گئی کہ عبدالرحمن نے کچھ کہا۔ کیا کہا؟ درج نہیں۔ اس پر ابن حجر نے فتح الباری، جلد ۸، صفحہ ۵-۵۷۷۷٦؛ میں کہا کہ 
 
 
بعض شارحین نہ کہا کہ یہاں انہوں نے مختصر کیا، اور فساد کیا
 
 
عربی متن یوں ہے
 

Quote
 
قَالَ بَعْضُ الشُّرَّاحِ وَقَدِ اخْتَصَرَهُ فَأَفْسَدَهُ 
 

 
 
ہم ذرا وضاحت سے اس واقعے کو بیان کر دیں، اور اس کے لیے ہم سلسلہ احادیث صحیحیہ، جلد ۷، صفحہ ۷۲۱-۷۲۲، کی طرف رجوع کرتے ہیں
 
 
البانی لکھتے ہیں کہ
 
 
عبداللہ بہی نے کہا کہ ہم مسجد میں تھے جب مروان نے خطبہ دیا کہ اللہ نے معاویہ کو یزید کے بارے میں اچھی رائے دی ہے، کہ وہ انہیں اپنا خلیفہ بنائے جیسے ابو بکر نے عمر کو خلیفہ بنایا۔ عبدالرحمن بن ابو بکر نے کہا کہ کیا ہرقل (کے دستور) کے مطابق؟ ابو برک نے اپنی اولاد میں کسی کو نہیں بنایا نہ اپنے گھر والوں میں، معاویہ اپنی اولاد پر رحمت و کرامت کر رہا ہے۔ مروان نے کہا کہ تہمارے لیے یہ آیت آئی ہے۔ اس پر عبدالرحمن نے کہا یہ اے مروان! کیا تم لعنتی کے بیٹے نہیں جس کے باپ پر اللہ کے رسول نے لعنت کی؟ یہ عائشہ نے سنا تو اس نے کہا کہ اے مروان! تم عبدالرحمن کے لیے فلان فلان چیز کے قائل ہو؟ تم نے جھوٹ بولا، یہ فلان فلان کے لیے نازل ہوئی۔ مروان نیچے اترا جلدی سے، اور آپ کے حجرے پر آیا، کچھ بولا اور پھر چلا گیا۔ 
 
میں البانی یہ کہتا ہوں کہ ابن کثیر اس پر چپ رہے ہیں، مگر یہ سند صحیح ہے
 
 
عربی متن یوں ہے
 


Quote
 
 عن عبد الله البهي قال:
إني لفي المسجد حين خطب مروان فقال: إن الله تعالى قد أرى أمير المؤمنين
في (يزيد) رأياً حسناً وأن يستخلفه، فقد استخلف أبو بكر عمر- رضي الله عنهما-. فقال عبد الرحمن بن أبي بكر- رضي الله عنهما-: أهرقلية؟! إن أبا بكر- رضي
الله عنه- ما جعلها في أحد من ولده، وأحد من أهل بيته، ولا جعلها معاوية
إلا رحمة وكرامة لولده! فقال مروان: ألست الذي قال لوالديه: (أفٍّ لكما) ؟ فقال عبد الرحمن: ألست يا مروان! ابن اللعين الذي لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أباك؟! قال: وسمعتهما عائشة- رضي الله عنها-، فقالت: يا مروان! أنت القائل لعبد الرحمن
كذا وكذا؟! كذبت! ما فيه نزلت، ولكن نزلت في فلان بن فلان. ثم انتحب
مروان (!) ثم نزل عن المنبر حتى أتى باب حجرتها، فجعل يكلمها حتى انصرف. قلت: سكت عنه ابن كثير، وهو إسناد صحيح.
 

 
 
قارئین کرام! ظاہر ہے کہ عائشہ نے فلان فلان تو نہیں کہا ہو گا، کوئی نہ کوئی نام لیا ہو گا- تا ہم وہ بھی ہمیں نہیں مل رہی
 
بہرکیف
 
یہ واقعہ کی تفصیل تھی
 
 
مگر بقول بعض شارحین کے، بخاری نے مختصر کر کے بیان کیا

مروان کو بچانے کی کوشش میں تحریف کی ایک اور مثال
 
 
بخاری نے یہ روایت اپنی صحیح، جلد ۹، صفحہ ۱٦۱، حدیث ۷۵۵۹؛ میں درج کی کہ
 
 
 ابو کریب، جن کا نام محمد بن علاء ہے، وہ اپنی سند سے ابو زرعہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نبی پاک کہتے ہیں کہ 
 
 
اللہ نے کہا کہ ان سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے کہ جو کوشش کرتے ہیں کہ میرے خلق کی طرح تخلیق کریں؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ کیا تم ایک چیونٹی یا گندم یا جو کا دانہ بھی بنا سکتے ہو؟
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً "
 

 
 
ابو کریب سے یہ روایت دیگر کتب میں بھی مذکور ہے۔ مثال کے طور پر مسلم اپنی صحیح جلد ۳، صفحہ ۱٦۷۱، حدیث ۲۱۱۱؛ میں درج کرتے ہیں کہ
 
 
ابو زرعہ نے کہا کہ ہم داخل ہوئے ابو ہریرہ کے ساتھ مروان کے گھر میں، اور وہاں ہم نے تصویریں دیکھیں۔ ابو ہریرہ نے کہا کہ میں نے سنا نبی سے کہ اللہ کہتا ہے۔۔۔۔۔۔
 
 
باقی وہی روایت ہے
 
 
عربی متن ملاحظہ ہو
 
 
رنگوں کے نشان سے آپ مسلم و بخاری کی سندوں میں مماثلت دیکھ سکتے ہیں
 


Quote
 
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَاابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي؟ فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً»
 

 
 
ایک اور مثال بھی دیتے چلیں
 
 
بیہقی نے اپنی سنن کبری، جلد ۷، صفحہ ۲٦۸؛  میں یہ درج کی کہ


Quote
 
14345 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا موسى بن إسحاق الأنصاري ثنا عبد الله بن أبي شيبة ح وأخبرنا محمد أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن أبي طالب وعبد الله بن محمد قالا ثنا أبو كريب قالا ثنا محمد بن فضيل ثنا عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة قال : دخلت مع أبي هريرة رضي الله عنه دار مروان فرأى فيها تصاوير فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ومن أظلم ممن ذهب يخلق خلقا كخلقي فليخلقوا ذرة أو ليخلقوا حبة أو ليخلقوا شعير
 

 
 
اب اس روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ عبداللہ بن محمد اور ابراہم بن ابی طالب؛ انہوں نے روایت حاصل کی ہے بو کریب سے، اور اس میں جو الفاظ واضح کیے گئے ہیں، وہ وہی ہیں کہ جو مسلم کے ہیں
 
 
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ مذکورہ حدیث معتبر سندوں کے ساتھ دیگر کتب میں بھی آتی ہے؛ اور ان میں یہ بات موجود ہے کہ یہ واقعہ مروان کے گھر ہوا
 
 
مثال کے طور پر مسند امام احمد بن حنبل، جلد ۱۲، صفحہ ۸۴، روایت نمبر ۷۱٦٦؛ شیخ شعیب نے کہا کہ سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے
 
اور وہاں پر یہ حدیث اس سند سے مذکور ہے

Quote
 
7166 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ، وَهِيَ تُبْنَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً

 
 
گویا، یہاں پر محمد بن فضیل براہ راست امام احمد سے نقل کر رہے ہیں
 
 
نیز، صحیح ابن حبان اور مسند ابو یعلی وغیرہ میں بھی اس روایت کا تذکرہ موجود ہے
 
 
ایک بات تو واضح ہے
 
کہ روایت میں تحریف ہے
 
بھلے ہی جس مرضی بندے نے کی ہو، ابو کریب نے یہ بخاری نے
 
ابو کریب کو علامہ ذہبی نے ان الفاظ میں خراج پیش کی کہ 
 
 
یہ حافظ، ثقہ، امام، محدثین کے شیخ ہیں
 
 


Quote
 
أبو كريب (ع) محمد بن العلاء بن كريب الحافظ الثقة الإمام، شيخ المحدثين، أبو كريب الهمداني الكوفي
 

 
اب، ان تصریحات کے بعد روایت میں تحریف تو ہے، اور
 
 یہ تحریف شدہ روایت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن کے بعد اہلسنت کے ہاں سب سے مستند کتاب میں موجود ہے


عبداللہ بن مسعود، تحریف قرآن اور بخاری کی تحریف شدہ روایت
 
 
ایک روایت ملاحظہ ہو
 
 
اپنی صحیح، جلد ٦، صفحہ ۱۸۱، حدیث ۴۹۷۷؛ میں درج کرتے ہیں کہ
 
 
زر بن حبیش نے ابی بن کعب سے پوچھا کہ اے ابا منذر! آپ کے بھائی ابن مسعود ایسے ایسے کہتے تھے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ، تو انہوں نے بتایا۔ سو ہم وہ کہتے ہیں کہ جو رسول اللہ کہتے تھے
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
 حدثنا علي بن عبد الله حدثنا سفيان حدثنا عبدة بن أبي لبابة عن زر بن حبيش ح وحدثنا عاصمعن زر قال سألت أبي بن كعب قلت يا أبا المنذر إن أخاك ابن مسعود يقول كذا وكذا فقال أبي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي قيل لي فقلت قال فنحن نقول كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم

 
 
اب کوئی بتائے کہ یہ ایسے ایسے سے کیا مراد ہے؟
 
 
ہم آپ کو شیخین کی شرط پر صحیح روایت سے دکھلا دیتے ہیں
 
 
احمد بن حنبل نے اپنی مسند، جلد ۳۵، صفحہ ۱۱۸، حدیث ۲۱۱۸۹؛ میں یہ روایت درج کی۔ ہم ترجمہ کے لیے اردو میں شائع شدہ نسخے سے استفادہ کرتے ہیں، جلد ۱۰، صفحہ ۵۷، حدیث ۲۱۵۰۸؛ میں لکھتے ہین کہ 
 
 
زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود معوذتین کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وہ اسے اپنے نسخے میں نہیں لکھتے؟ ابی ابن کعب نے فرمایا کہ ہم نے نبی سے ان صورتوں کے متعلق نبی سے پوچھا تو نبی نے فرمایا مجھ سے کہنے کے لیے فرمایا گیا (قل کہہ دیجیئے) لہذا میں کہہ دیتا ہوں، چنانجہ نبی نے جو کہا ہے، وہ ہم بھی کہتے ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے
 
 

Quote
 
21189 - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدةَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ: إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: ابْنِ مَسْعُودٍ؟ فَلَمْ يُنْكِرْ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "قِيلَ لِي، فَقُلْتُ " فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَاَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سُفْيَانُ: يَحُكُّهُمَا: الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ " كَانَ يَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَؤُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ "، فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ، وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ، وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ، فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ

 
 
 
محقق کتاب، شیخ شعیب الارناوط نے سند کے بارے میں کہا کہ 
 
إسناده صحيح على شرط الشيخين 
 
یعنی شیخین کی شرط پر صحیح سند ہے
 
 
گویا، بخاری کے مطابق یہ حدیث بھی صحیح ہے
 
 
یاد رہے، کہ امام احمد بن حنبل نے اس موضوع پر لگاتار کئی  روایتیں درج کی ہیں
 
 
اور ساری روایات کو ہی تقریبا شیخ الارناوط نے معتبر جانا ہے۔ 
 
اس روایت سے اس وجہ سے استدلال کیا کہ بخاری کی شرط پر صحیح ہے
 
 
اب سند پر اگر آپ توجہ دیں، تو احمد بن حنبل کی سند میں 
 
سفیان نے یہ روایت لی ہے عبدہ اور عاصم سے
 
ان دونوں نے یہ روایت لی ہے زر سے
 
انہوں نے ابی سے
 
اور بخاری کی سند پر اگر آپ توجہ دیں، تو 
 
بخاری روایت لی ہے علی بن عبداللہ سے، 
 
انہوں نے سنا سفیان سے، وہ لے رہے ہیں عبدہ سے جو سن رہے ہیں زر سے
 
پھر بخاری دوسری سند لاتے ہیں کہ 
 
کہا مجھ سے عاصم نے 
 
 
بخاری نے عاصم سے نہیں سنا، بلکہ جیسا کہ ابن حجر نے کہا
 
 
 
Quote
 
القائل " وحدثنا عاصم " هو سفيان 
 
کہ (عاصم نے مجھ سے کہا) یہ قول سفیان کا ہے
 

 
 
 
تو اب بات یہ ہوئی کہ سفیان نے ہی سنا عاصم سے، اور اس نے زر سے
 
توجہ دیں تو احمد بن حنبل کی روایت کی سند، اور بخاری کی سند ایک ہی ہے
 
فرق یہ ہے کہ بخاری نے یہ روایت لی ہے علی بن عبداللہ المدینی سے
 
 
 
 
امام، حجت، حدیث کے امیر المومنین ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
علي بن المَدِيني (خ، د، م، س) الشيخ الإمام الحجة، أمير المؤمنين في الحديث، أبو الحسن ، علي بن عبد الله بن جعفر بن نجيح بن بكر بن سعد السعدي
 

 
 
 
اب بھلے ہی یہ ڈنڈی امیر المومنین فی حدیث نے ماری ہے
 
یا بخاری نے
 
 
مگر یہ ایسے ایسے کے الفاظ کے ساتھ بھول بھلییوں والی   حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریف شدہ ہے


بخاری کا اس صحابی کا نام حذف کرنا جو رسول اللہ کے حکم پر جواب دے رہا تھا
 
 
پہلے ہم آپ کو سنن ابی داود سے ایک روایت دکھاتے ہیں
 
آن لائن ترجمے سے استفادہ کیا گیا ہے، سند پر نظر رکھیے گا
 
باب وقت فطر الصائم
باب: روزہ افطار کرنے کا وقت۔
حدیث نمبر : 2352
 
 
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک سفر میں) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے جبکہ آپ روزے سے تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا ”اے بلال! اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔“ انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ذرا شام ہو لینے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا ”اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔“ انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ابھی تو دن ہے۔ آپ نے فرمایا اترو اور ہمارے لیے ستو گھولو۔“ چنانچہ بلال اترے ‘ ستو گھولا اور پھر آپ نے نوش کیا اور فرمایا ”جب دیکھو کہ ادھر سے رات ہو گئی ہے تو بلاشبہ روزے دار کے لیے افطار کا وقت ہو گیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔
 
قال الشيخ الألباني: صحيح
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
حدثنا مسدد، ‏‏‏‏حدثنا عبد الواحد، ‏‏‏‏حدثنا سليمان الشيباني، ‏‏‏‏قال سمعت عبد الله بن أبي أوفى، ‏‏‏‏يقول سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صائم فلما غربت الشمس قال "‏يا بلال انزل فاجدح لنا "‏‏.‏ قال يا رسول الله لو أمسيت ‏.‏ قال "‏انزل فاجدح لنا "‏‏.‏ قال يا رسول الله إن عليك نهارا ‏.‏ قال "‏انزل فاجدح لنا "‏‏.‏ فنزل فجدح فشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال "‏إذا رأيتم الليل قد أقبل من ها هنا فقد أفطر الصائم "‏‏.‏ وأشار بأصبعه قبل المشرق ‏.‏
 

 
 
آن لائن لنک ملاحظہ ہو
 
 
اب یہی سند صحیح بخاری، جلد ۳، صفحہ ۳٦، حدیث ۱۹۵٦؛ میں بھی مذکور ہے
 
 
مگر صحابی کا نام دکھلا دیجیے
 
 
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
1956 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ؟ قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا»، فَنَزَلَ فَجَدَحَ ثُمَّ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ» وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ المَشْرِقِ
 

 
سند عین بعین ایک ہی ہے


بخاری کا وطی فی دبر کی روایت میں تحریف کرنا
 
 
بخاری صاحب نے اپنی صحیح، جلد ٦، صفحہ ۲۹، حدیث ۴۵۲٦؛ میں درج کی ہے کہ
 
 
جب ابن عمر قرآن کی تلاوت کرتے، وہ کسی سے نہ بولتے جب تک اسے ختم نہ کر لیتے۔ ایک بار جب میں نے قرآن پکڑا ہوا تھا، اور وہ سورہ بقرہ کی  تلاوت کر رہے تھے، ایک آیت پر رکے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس سلسلے میں نازل ہوئی؟۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر وہ بولے کہ یہ فلاں فلاں سلسلے میں نازل ہوئی۔ ابن عمر نے پھر سے اس کی تلاوت شروع کی۔
 
 
عربی متن یوں ہے 
 


Quote
 
4526 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " إِذَا قَرَأَ القُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَقَرَأَ سُورَةَ البَقَرَةِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ، قَالَ: تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ مَضَى
 

 
 
عربی متن سے صاف ظاہر ہے کہ کہ آیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ابن عمر فلاں فلاں تو نہیں کہیں گے
 
 
اب یاد رہے کہ ابن حجر نے فتح الباری؛ جلد ۸، صفحہ ۱۹۰؛ میں جب اس کا ذکر کیا، تو کہا کہ 
 
 
قوله : ( حدثني إسحاق ) هو ابن راهويه
 
کہ بخاری کا کہنا کہ مجھ سے اسحاق نے کہا، یہ ابن راھویہ ہیں
 
 
آگے کہتے ہیں کہ
 
اسحاق ابن راہویہ نے اپنی مسند اور تفسیر میں اس سند سے لکھا، اور اس میں تبدیلی یہ ہے کہ: جب وہ اس مقام پر پہنچے؛ اس میں ہے کہ جب وہ اس قول پر پہنجے کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں تو جیسے چاہو، آو۔ ابن عمر بولے کہ یکا تم  جانتے ہو کہ یہ آیت کس سلسلے میں نازل ہوئی، میں بولا کہ نہیں۔ وہ بولے کہ یہ آئی کہ اپنی بیوی کی دبر میں آنا
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
 فقد أخرجها إسحاق بن راهويه في مسنده وفي تفسيره بالإسناد المذكور وقال بدل قوله حتى انتهى إلى مكان حتى انتهى إلى قوله نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أني شئتم فقال أتدرون فيما أنزلت هذه الآية قلت لا قال نزلت في إتيان النساء في أدبارهن وهكذا 
 

 
 
ابن حجر نے صاف بتلا دیا کہ ابن راہویہ نے اپنی کتاب میں واضح طور پر بیان کیا تھا کہ ابن عمر کو قول کس بارے میں ہے۔
 
مگر بخاری میں آپ کو کچھ پلے نہیں پڑے گا کہ کیا بولا جا رہا ہے


خلاصہ کلام
 
 
 
اب ہم اپنی بات کو اختتامی مراحل میں لے کر آتے ہیں
 
 
ہم نے آپ کو کئی روایات دکھائی ہیں کہ جن میں تحریف واقع ہوئی
 
 
کچھ روایات تو وہ ہیں کہ جو اسی سند سے دیگر کتب میں موجود ہیں، اور بخاری صاحب نے بھی انہی اسناد سے ذکر کیں، تاہم ہمیں ان میں تحریف ملتی ہے؛ جس کا ملبہ بخاری صاحب پر براہ راست گرتا ہے
 
 
کچھ ایسی ہیں کہ جن میں تحریف تو واضح ہے، تاہم بخاری کی سند میں، اور دوسری کتابوں کی سند میں معمولی فرق ہے۔ ان میں ہم براہ راست بخاری پر تو الزام عائد نہیں کر سکتے، مگر یہ تو وہ تحریف بخاری نے کی، یا پھر ان کے شیخ نے
 
 
اور ان میں بھی بخاری پر شبہ زیادہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ خود علمائے اہلسنت نے اسس بات کی گواہی دی کہ بخاری ضبط الفاظ کا خیال نہیں رکھتے تھے
 
 
محمود احمد غازی صاحب اپنی کتاب، محاضرات حدیث، صفحہ ۱۱۷، پر فرماتے ہیں
 

 
ایک چھوٹا سا فرق اور بھی ہے، بلکہ ایک اعتبار سے یہ ایک بڑا فرق ہو گا، وہ یہ کہ امام بخاری نے ضبط الفاظ پر نسبۃ کم زور دیا ہے۔ یعنی رسول اللہ کی زبان مبارک سے نکلنے والے الفاظ کیا تھے، جن راویوں نے احادیث کو بیان کیا ان میں اگر کوئی
 (variation)
یا متن کا اختلاف ہے، تو وہ کیا ہے؟اس پر امام بخاری نے زیادہ زور نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔امام بخاری جب حدیث بیان کرتے ہیں تو یہ تعین نہیں ہوتا کہ الفاظ دونوں راویوں کے ایک جیسے تھے یا دونوں کے الفاظ الگ الگ تھے۔ الگ الگ تھے تو یہ الفاظ کس راوی کے ہیں، یہ آپ کو امام بخاری کے ہاں نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔۔
 

 
 
کافی واضح کلام ہے
 
 
اور اس پر دلائل وہ ساری روایات ہیں کہ جن کا ہم حوالہ دے چکے ہیں
 
 
دعا میں یاد رکھئے گا
 
اہلبیت کا ادنی سا غلام
 
Slave of Ahlubait


No comments:

Post a Comment