Saturday, February 15, 2014

کیا دوسروں سے مدد مانگنا شرک ہے؟

ابن عباس فرماتے ہیں  کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میں اللہ کے فرشتے ہوتے ہیں نامہ اعمال لکھنے والوں کے علاوہ ، زمین سے اگر ایک پتہ بھی گرتاہے تو یہ اسے لکھ لیتے ہیں اورجب تم کسی چٹیل میدان میں کسی مصیبت میں پھنس جاؤ تو اس طرح پکارو : اے اللہ کے بندو ! مدد کرو
بزار نے اس کی روایت کی ہے، اور اس کے راوی ثقہ ہیں
عربی متن یوں ہے


Quote
17104 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ سِوَى الْحَفَظَةِ، يَكْتُبُونَ مَا يَسْقُطُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ، فَإِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ عَرْجَةٌ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ: أَعِينُوا عِبَادَ اللَّهِ» ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

شیخ البانی نے اس حدیث کو اپنی کتاب، سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة؛ جلد ۲، صفحہ ۱۱۱، حدیث ٦۵٦، طبع دار المعارف، الرياض؛ میں اس حدیث کو درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ 
حافظ  ابن حجر نے شرح ابن علان میں اس حدیث کی سند کو حسن غریب کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور سخاوی نے ابتھاج میں اسے حسن کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کہتا ہوں: یہ سند حسن ہے جیسا کا کہا گیا۔ اس کے سارے راوی ثقہ ہیں سوائے اسامہ بن زید کے، وہ صحیح مسلم کے راوی ہیں، ان کے حافظے میں کمزوری ہے، حافظ ابن حجر تقریب میں کہتے ہیں کہ یہ صدوق/سچے اور وہمی ہیں
عربی متن کچھ یوں آتے ہیں


Quote
قال الحافظ كما في " شرح ابن علان " (5 / 151) : " هذا حديث حسن الإسناد غريب جدا
۔۔۔۔۔۔
وحسنه السخاوي أيضا في " الابتهاج " 
۔۔۔۔۔
قلت: وهذا إسناد حسن كما قالوا، فإن رجاله كلهم ثقات غير أسامة بن زيد وهو الليثي وهو من رجال مسلم، على ضعف في حفظه، قال الحافظ في " التقريب ": " صدوق يهم ".

اسی طرح شیخ البانی نے امام احمد بن حنبل کا واقعہ لکھا ہے
فرماتے ہیں
حدیث ابن عباس کہ جس کو حافظ نے حسن کہا، امام احمد اسے مزید قوی کرتے ہیں، اس وجہ سے کہ وہ اس پر عمل کرتے تھے۔ ان کے بیٹے عبداللہ نے المسائل (۲۱۷) مین لکھا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ میں نے ۵ حجج کیے، جن میں ۲ سوار ہو کے، اور ۳ پیدل کیے، یا ۳ سوار ہو کے، اور ۲ پیدل کیے۔ ایک دفعہ جب میں پیدل چل رہا تھا کہ میں راستہ کھو گیا۔ پس میں نے کہا کہ اے اللہ کے بندوں مجھے سیدھے راہ پر لاو۔ میں یہ کہتا رہا حتی کہ راستے پر آ گیا۔ 
بیہقے نے الشعب اور ابن عساکر نے عبداللہ کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ لکھا
عربی متن یوں ہے


Quote
 ويبدو أن حديث ابن عباس الذي حسنه الحافظ كان الإمام أحمد يقويه، لأنه قد عمل به، فقال ابنه عبد الله في " المسائل " (217) : " سمعت أبي يقول: حججت خمس حجج منها ثنتين [راكبا] وثلاثة ماشيا، أو ثنتين ماشيا وثلاثة راكبا، فضللت الطريق في حجة وكنت ماشيا، فجعلت أقول: (يا عباد الله دلونا على الطريق!) فلم أزل أقول ذلك حتى وقعت على الطريق.
أو كما قال أبي، ورواه البيهقي في " الشعب " (2 / 455 / 2) وابن عساكر (3 / 72 / 1) من طريق عبد الله بسند صحيح

گویا، یہ بات ثابت ہے کہ امام احمد بن حنبل اس پر عمل کرتے رہے ہیں


اسی روایت کی بنا پر مشہور عالم، محمد بن علي بن محمد الشوكاني، اپنی کتاب،        تحفة الذاكرين بعدة الحصن الحصين، صفحہ ۲۳۴، طبع دار النشر / دار القلم - بيروت ، پر فرماتے ہیں کہ 
 
 
اس حدیث میں دلیل ہے مدد مانگنے کی اللہ کے بندوں سے جو فرشتوں میں ہیں یا نیک جنوں میں، اور اس میں کوئی برائی نہیں جیسا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ بنی آدم سے مدد مانگے اگر اس کی سواری بے قابو ہو
 
 
 
عربی متن یوں ہے

Quote
 
وأخرج البزار من حديث ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن لله ملائكة في الأرض سوى الحفظة يكتبون ما سقط من ورق الشجر فإذا أصاب أحدكم شيء بأرض فلاة فليناد أعينوني يا عباد الله قال في مجمع الزوائد رجاله ثقات وفي الحديث دليل على جواز الاستعانة بمن لا يراهم الإنسان من عباد الله من الملائكة وصالحي الجن وليس في ذلك بأس كما يجوز للإنسان أن يستعين ببني آدم إذا عثرت دابته أو انفلتت


No comments:

Post a Comment