Monday, February 17, 2014

کیا مولا علی نے لوگوں کو حدیث غدیر کی یاددہانی کرانے کی کوشش کی؟

 
ہم نے ایک مختصر سا مقالہ لکھا تھا کہ جس میں ہم نے کہا کہ
 
 
 
 
اب سوال یہ ہے کہ کیا امام علی علیہ السلام نے کبھی لوگوں کو غدیر کا واقعہ یاد کرانے کی کوشش کی 
 
 
اس مقالے میں ہم اہلسنت کے مشہور کتب سے روایات پیش کریں گے، اور ہمارا طریقہ کبھی یہ نہیں رہا کہ ضعیف روایات سے استدلال قائم کیا جائے، اس وجہ سے ہم معتبر روایات پیش کریں گے کہ جن کی وثاقت خود علمائے اہلسنت تسلیم کریں 
 
 
اس ضمن میں ہم حافظ نور الدین ہیثمی کی کتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، طبع مكتبة القدسي، القاهرة؛ سے استفادہ کریں گے
 
 
حافظ صاحب نے خود ہی روایت کے اسنادی حیثیت پر گفتگو کی ہے؛ تاہم ہم دیگر کتب سے بھی حوالہ دیں گے، اور ساتھ ہی اس کتاب کے محقق کا قول بھی پیش کریں گے
 
 
 زياد بن أبي زياد 
 
 
ہیثمی جلد ۹، صفحہ ۱۰٦-۱۰۷، پر درج کرتے ہیں کہ 
 
 
زیاد بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ میں نے مولا علی کو لوگوں کو گواہی کے لیے کہتے سنا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم میں سے وہ مسلمان مرد کہ جنہوں نے رسول اللہ کو کہتے سنا ہو غدیر کے موقع پر جو کہ میں کے کہا۔ تو ۱۲ صحابہ کہ جو بدر کے غزوے میں حصہ لے چکے تھے، انہوں نے گواہی دی
 
یہ احمد نے روایت کی، اور اس کے راوی ثقہ ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے
 


Quote
 
14624 - «وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَنْشُدُ النَّاسَ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ لَمَا قَامَ. فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا».
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
 

 
 
مسند احمد کے محقق، شیخ احمد شاکر، نے اپنی تحقیق کے جلد ۱، صفحہ ۴٦۰، روایت نمبر ٦۷۰؛ میں اس سند کو صحیح مانا ہے
 
 
اور دوسری تحقیق، جو کہ شیخ شعیب الارناوط نے کی ہے، اس میں انہوں نے جلد ۲، صفحہ ۹۴ ، پر اسے صحیح لیغرہ مانا ہے
 
 
 سعيد بن وهب
 
 
اسی جلد کے صفحہ ۱۰۴ پر ہیثمی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ 
 
 
سعید بن وہب کہتے ہیں کہ مولا علی نے لوگوں سے گواہی دینے کے لیے کہا، تو ۵ یا ٦ صحابیوں نے گواہی دی کہ میں جس کا مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں
 
احمد نے اس کی روایت کی، اور اس کے راوی، صحیح حدیث راوی ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے
 


Quote
 
14613 - «وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: نَشَدَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - النَّاسَ، فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
 

 
 
اس روایت کو ضیا مقدسی نے اپنی کتاب، الاحدیث المختارہ، جلد ۲، صفحہ ۱۰۵، حدیث ۴۷۹؛ میں درج کیا، گویا ان کے مطاطق یہ صحیح ہے۔ نیز، کتاب کے محقق، عبدالملک دہیش نے اسے صحیح سند مانا
 
 
نیز، مسند احمد کے محقق، شیخ شعیب الارناوط نے بھی اسے صحیح سند مانا ہے۔ دیکھیے مسند احمد، جلد ۳۸، صفحہ ۱۹۳، حدیث ۲۳۱۰۷، تحقیق شعیب الارناوط۔
 
 
ابو طفیل
 
 
اسی صفحے پر ہیثمی نے ایک اور روایت بھی نقل کی ہے کہ
 
 
ابو طفیل نے نقل کیا کہ مولا علی نے لوگوں کو رحبہ میں جمع کیا، اور انہیں اللہ کا واسطہ دے کر تمام مسلمان مردوں سے کہا کہ جنہوں نے نبی پاک کو سنا ہو غدیر میں کہ وہ کھڑے ہوں اور گواہی دیں کہ انہوں نے کیا سنا تھا غدیر کے روز۔ ۳۰ لوگ کھڑے ہوئے، اور گواہی دی کہ نبی نے علی کا ہاتھ پکڑا اور لوگوں سے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ میں تم پر، تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟ تو لوگوں نے کہا کہ ہاں ! اے اللہ کے رسول۔ تو نبی نے کہا کہ جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے، اور اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔ ابو طفیل نے کہا کہ جب وہ وہاں سے نکلے تو دل میں خلش تھی۔ سو وہ زید بن ارقم سے ملے اور کہا کہ میں نے علی کو یہ کہتے سنا۔ زید نے کہا کہ کسی شک میں نہ جانا کیونکہ انہوں نے خود یہ سنا ہے کہ نبی پاک نے یہ لفظ کہے تھے 
 
احمد نے اس کی روایت کی، اور اس کے راوی، صحیح حدیث کے راوی ہیں سوائے فطر بن خلیفہ کے اور وہ ثقہ ہیں
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
14612 - وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «جَمَعَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ لَمَا قَامَ، فَقَامَ إِلَيْهِ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ.
قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: " أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ ". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ".
قَالَ: فَخَرَجْتُ كَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَمَا تُنْكِرُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَلِكَ».
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
 

 
 
مشہور محقق، شیخ شعیب الارناوط نے مسند احمد، جلد ۳۲، صفحہ ۵٦؛ میں اس سند کے متعلق کہا کہ 
 
 
یہ سند صحیح ہے، راوی سارے ثقہ ہیں سوائے فطر کے، جو ابن خلیفہ ہے، اور سنن کا راوی ہے، بخاری نے مقرونا اس سے روایت لی ہے، اور وہ ثقہ ہے
 
 
عربی متن یوں ہے

Quote
 
(3) إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير فطر- وهو ابنُ خليفة- فمن رجال أصحاب السنن، وروى له البخاري مقروناً، وهو ثقة.

 
 
 
 عمرو بن ذى مر ؛ سعيد بن وهب اور  زيد بن بثيع
 
 
ہیثمی جلد ۹، صفحہ ۱۰۴- ۱۰۵ پر فرماتے ہیں کہ
 
 
عمرو بن ذى مر ؛ سعيد بن وهب اور  زيد بن بثيع کہ ہم نے مولا علی کو سنا کہ وہ اللہ کا واسطہ دے کر ان مردوں سے کہہ رہے تھے کہ جنہوں نے سنا رسول کو غدیر کے دن، پس ۱۳ بندے کھڑے ہوئے اور گواہی دی کہ نبی نے کہا: اے لوگوں ! کیا میں زیادہ حق نہیں رکھتا مومنین پر جتنا کہ وہ خود رکھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں ! اے اللہ کے رسول۔ تو نبی نے کہا کہ جس کا میں مولا ہوں ، اس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے؛ اور اس سے بغض رکھ جو اس سے بغض رکھے ؛اور اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرے؛ اسے رسوا کر جو اس کی ہتک کرے
 
بزار نے اس کی روایت کی، اور اس کے راوی، صحیح حدیث کے راوی ہیں؛ سوائے فطر بن خلیفہ کے اور وہ ثقہ ہے
 
 
عربی متن یوں ہے
 


Quote
 
14614 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ ذِي مُرٍّ، وَسَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالُوا: «سَمِعْنَا
عَلِيًّا يَقُولُ: نَشَدْتُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لَمَا قَامَ، فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ ". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَأَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ، وَأَبْغِضْ مَنْ يُبْغِضُهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ».
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
 

 
 
اسی طرح ہیثمی نے صفحہ ۱۰۷ پر کہا کہ 
 
 
سعید بن وہب نے زید سے روایت کی کہ وہ کہہ رہے تھے کہ مولا علی نے رحبہ میں لوگوں سے کہا کہ جنہوں نے نبی کو غدیر میں سنا ہو، وہ کھڑے ہوں۔ پس ٦ لوگ سعید کی جانب سے، اور ۷ لوگ زید کی جانب سے کھڑے ہوئے، اور گواہی دی کہ ہم نے رسول اللہ کو سنا غدیر کو دن علی کے لیے کہ کیا میں مومنین پر زیادہ حق نہیں رکھتا؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ نے کہا کہ اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے، اور اس سے دشمنی رکھ کہ جو اس سے دشمنی رکھے
 
عبداللہ اور بزار نے اس سے ملتی جلتی روایت کی، جنھوں نے اسے مکمل کیا، اند کہا کہ یہ سعید بن وہب سے روایت ہے، نہ کہ زید سے جیسا کہ آ رہا ہے۔ بظاہر اس میں (اور) حذف ہو گیا ہے۔ اسناد حسن ہیں
 
 
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ الفاظ یوں ہیں
 
 
سعید بن وہب اور زید نے روایت کی
 
 
عربی متن یوں ہے


Quote
 
14627 - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ: «نَشَدَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ: مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ. قَالَ: فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ، وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سَبْعَةٌ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لِعَلِيٍّ: " أَلَيْسَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ؟ ". قَالُوا: بَلَى قَالَ: " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ".
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ أَتَمَّ مِنْهُ، وَقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، لَا عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ كَمَا هُنَا، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْوَاوَ سَقَطَتْ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.
 

 
 
یہ روایت مقدسی نے اپنی کتاب الاحدیث المختارہ، جلد ۲، سفحہ ۱۰۵-۱۰٦، روایت ۴۸۰؛ پر درج کی، اور محقق عبدالملک دہیش نے سند کو حسن مانا ہے
 
 
شیخ احمد شاکر نے مسند احمد کی تحقیق، جلد ۲، صفحہ ۱۸؛  میں اسے صحیح مانا ہے
 
 
شیخ شعیب نے مسند احمد کی تحقیق؛ جلد ۲، صفحہ ۲٦۲؛ میں اسے صحیح لیغرہ مانا ہے
 
 
شیخ البانی نے اسے سلسلہ احادیث صحیحیہ؛ جلد ۴، صفحہ ۳۳۸؛ میں اسے حسن مانا ہے
 
 
 
خلاصہ کلام
 
 
ہم نے مختلف روایت مع توثیقات بذبان علمائے اہلسنت سے یہ بات ثابت کی ہے کہ مولا علی نے لوگوں کو سے گواہیاں دلائیں بلکہ خدا کے واسظے دیے کہ بیان کریں کہ غدیر میں کیا ہوا تھا
 
رسول اللہ کی پیشن کوئی دوبارہ یاد کرا دوں کہ 
 
 
 یہ امت تم سے غداری کرے گی

No comments:

Post a Comment