Tuesday, December 2, 2014

خالد بن ولید کا مولا علی سے نفرت کرنا



السلام علیکم 

احمد بن حنبل کی کتاب، فضائل الصحابہ، جلد ۲، صفحہ ۸۵۷؛ پر ایک روایت ملتی ہے 

1177 – حدثنا عبد الله نا أبي نا وكيع نا الأعمش عن سعد بن عبيدة عن بن بريدة عن أبيه بريدة : انه مر على مجلس وهم يتناولون من علي فوقف عليهم فقال انه قد كان في نفسي على علي شيء وكان خالد بن الوليد كذلك فبعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني في سرية عليها علي فأصبنا سبيا قال فأخذ علي جارية من الخمس لنفسه فقال خالد بن الوليد دونك قال فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه و سلم جعلت أحدثه بما كان ثم قلت ان عليا أخذ جارية من الخمس قال وكنت رجلا مكبابا قال فرفعت رأسي فإذا وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم قد تغير فقال من كنت وليه فعلي وليه

بریدہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مجلس کے پاس سے گذرا، تو وہاں لوگ مولا علی کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ میں کھڑا ہوا، اور ان سے کہنے لگا کہ میرے دل میں علی کی لیے کچھ تھا، اور خالد بن ولید کی بھی یہی حالت تھی۔ نبی پاک نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، وہاں ہمارے ہاتھ قیدی آئے۔ علی نے ان میں سے ایک ٖلڑکی خمس میں اپنے لیے رکھ لی۔ اور جب ہم واپس آئے، تو ہم نے یہ بات نبی پاک کو بتائی۔ انہوں نے سر اٹھایا، تو چہرے کے تاثرات بدلے تھے، انہوں نے کہا۔جس کا میں ولی ہوں، علی اس کا ولی ہے

کتاب کے محقق، وصی اللہ بن محمد عباس نے سند کو صحیح قرار دیا

یہ روایت مسند احمد، جلد ۱۰،اردو ترجمہ، صفحہ ٦۹۲؛ پر بھی درج ہے۔ اس کتاب کی تخریج کرتے ہوئے شیخ شعیب نے کہا

إسناده صحيح على شرط الشيخين
یہ سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے

اس روایت میں ہمیں یہ ملتا ہے کہ صحابہ کے زمانے میں لوگ مولا علی کو برا کہہ رہے تھے، نیز یہ کہا بریدہ اور خالد بن ولید کے دل میں مولا کے لیے کچھ تھا

اب ایسا کیا تھا

صحیح بخاری، جلد ۵، صفحہ ۱٦۳؛ پر یہ روایت ملتی ہے


4350 – حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِي الخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ»

بریدہ کہتے ہیں کہ نبی پاک نے مولا علی کو خالد کے پاس بھیجا تا کہ خمس لے لیں۔ اور میں مولا علی سے نفرت کرتا تھا۔ جب انہوں نے غسل (جنابت) کیا، تو میں نے خالد سے کہا: تم نے دیکھا یہ؟ جب ہم نبی پاک کے پاس آئے، تو اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: اے بریدہ! کیا تہم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اس سے نفرت نہ کرہ کیوں کہ اس کا خمس میں حصہ اس سے زیادہ ہے


اس روایت میں کئِ ساری باتیں نہیں کی گئیں

تاہم، ہمیں یہ پتہ چلا کہ بریدہ کے دل میں جو کچھ تھا، وہ درحقیقت نفرت تھی

اور خالد بھی اسی کیفییت میں مبتلا تھا

یہ بھِی یاد رہے کہ اس روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ نبی پاک نے مولا علی کو خالد کے پاس بھیجا تھا

اس نکتے کو مد نظر رکھتے ہوئے، یہ روایت دیکھئے

امام احمد، اپنی مسند، اردو ترجمہ، جلد ۱۰، صفحہ ٦۷۳؛ پر درج کرتے ہیں


22967 – حدثنا يحيى بن سعيد ، حدثنا عبد الجليل قال : انتهيت إلى حلقة فيها أبو مجلز ، وابنا بريدة ( 2 ) فقال : عبد الله بن بريدة ، حدثني أبي بريدة قال : أبغضت عليا بغضا لم أبغضه أحدا

قط . قال : وأحببت رجلا من قريش لم أحبه إلا على بغضه عليا . قال : فبعث ذاك ( 1 ) الرجل على خيل فصحبته ما أصحبه إلا على بغضه عليا . قال : فأصبنا سبيا . قال : فكتب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ابعث إلينا من يخمسه . قال : فبعث إلينا عليا ، وفي السبي وصيفة هي من أفضل السبي ( 2 ) فخمس ، وقسم فخرج رأسه يقطر ( 3 ) فقلنا : يا أبا الحسن ما هذا؟ قال : ألم تروا إلى الوصيفة التي كانت في السبي ، فإني قسمت وخمست فصارت في الخمس ، ثم صارت في أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم ، ثم صارت في آل علي ووقعت بها . قال : فكتب الرجل إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم فقلت : ابعثني فبعثني مصدقا . قال : فجعلت أقرأ الكتاب وأقول : صدق . قال : فأمسك يدي والكتاب وقال : أتبغض عليا؟ قال : قلت : نعم . قال : فلا تبغضه ، وإن كنت تحبه فازدد له حبا ، فوالذي نفس محمد بيده لنصيب آل علي في الخمس أفضل من وصيفة قال : فما كان من الناس أحد بعد قول رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلي من علي

بریدہ کہتے ہیں کہ میں علی سے اتنی نفرت کرتا تھا کہ کسی اور سے اتنی نہیں کی- اور صرف اس نفرت کی وجہ سے میں قریش کے ایک آدمی سے محبت کرتا تھا- ایک دفعہ اس شخص کو قریش کے کچھ شہسواروں کا سردار بنا کر بھیجا گیا- تو میں بھی اس کے ساتھ صرف اس بنیاد پر چلا گیا کہ وہ حضرت علی سے نفرت کرتا تھا۔ ہم نے کچھ قیدی پکڑے- اور نبی کے پاس خط بھیجا کہ کسی کو بھیجیں جو مال غنیمت کا خمس لے لے- سو نبی پاک نے علی کو بھیجا۔ ان قیدیوں میں ایک خوبصورت لڑکی تھی- علی نے خمس وصول کیا۔ اور اسے تقسیم کر دیا- پھر جب وہ باہر آئے تو سر سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ ہم نے پوچھا کہ اے ابو حسن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ تم نے دیکھا نہیں کہ اس میں ایک لڑکی تھی۔ جب میں نے خمس تقسیم کیا، تو وہ اہل بیت میں آئی، اور اس میں وہ آل علی میں آئی- تو اس پر اس شخص نے خط لکھا نبی پاک کو، میں نے کہا کہ مجھے بھیجو تاکہ میں اس کی تصدیق کروں- جب میں نے خط پڑھا تو ساتھ کہا کہ صحیح کہا ہے۔ اس پر نبی پاک نے میرا ہاتھ خظ پر سے اٹھایا اور کہا کہ تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ نبی پاک نے کہا: نفرت نہ کرو، اور اگر محبت کرتے ہو تو محبت میں اضافہ کرو کیوں کہ آل علی کا حق خمس میں اس لڑکی سے زیادہ ہے- اس کے بعد مجھے علی سے زیادہ محبوب کوئی نہ رہا

اس روایت میں واضح طور پر لکھا ہے کہ خالد مولا سے نفرت کرتا تھا

اس سند کے بارے میں شیخ شعیب الارناوط کہتے ہیں

حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الجليل – وهو ابن عطية القيسي – فهو صدوق حسن الحديث

یہ حدیث صحیح ہے، یہ سند حسن ہے عبدالجلیل کی وجہ سے جو کہ سچے اور حسن الحدیث ہیں


ایک بات اور کرتے چلیں کہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں کتاب الایمان میں ایک باب بنایا ہے

باب الدلیل ان حب الانصار و علی رضی اللہ عنہم من الایمان و علاماتہ، و بغضہم من علامات النفاق

یعنی: دلیل کہ انصار اور مولا علی سے محبت کرنا ایمان اور اس کی علامات میں شامل ہے، اور ان سے بغض کرنا منافقت کی علامات میں سے ہے 

اور اس میں ایک روایت آتی ہے کہ 

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا وكيع وأبو معاوية ، عن الأعمش . ح حدثنا يحيى بن يحيى واللفظ له ، أخبرنا أبو معاوية ، عنالأعمش ، عن عدي بن ثابت ، عن زر ، قال : قال علي : والذي فلق الحبة وبرأ النسمة ، إنه لعهد النبي الأمي صلى الله عليه وسلم ، إلي أن ” لا يحبني إلا مؤمن ، ولا يبغضني إلا منافق ” .

مولا علی نے کہا کہ قسم اس کی جس نے دانہ چیرا، اور جان بنائی، کہ نبی پاک نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ نہیں کرتے گا مجھ سے محبت مگر یہ کہ مومن ہو گا، اور نہیں کرے گا مجھ سے نفرت مگر یہ کہ منافق ہو گا



اس سے زیادہ اب ہم اور کیا لکھیں

سمجھدار کو اشارہ کافی ہے

No comments:

Post a Comment