Saturday, April 26, 2014

حدیث ثقلین اور علمائے اہلسنت کی تحریفات

السلام علیکم
حدیث ثقلین کا شمار مشہور ترین احادیث میں ہوتا ہے کہ جس میں نبی پاک نے امت کو قرآن و اہلبیت سے تمسک رکھنے کا حکم دیا
یہ وہ حدیث ہے کہ جس کو چھپانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے، اور مختلف تاویلات کے ذریعے بھی سادہ لوح برادران اہلسنت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے
مگر انتہا تو یہ ہے کہ علمائے اہلسنت اس میں تحریف کرتے بھی نہیں جھجکتے
مشہور سنی عالم، شیخ حسین سلیم اسد، مسند الحمیدی کے جلد ۱، صفحہ ۱۱؛ پر ایک روایت کی تحقیق کرتے ہیں کہ جس میں آتا ہے کہ نبی پاک نے کہا کہ میں تم میں قرآن و سنت چھوڑے جاتا ہوں، اس کی تحقیق میں موصوف حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ 
یہ حدیث صحیح ہے، اور مسلم نے اپنی صحیح میں فضائل الصحابہ (۲۴۰۸) کے باب فضائل علی میں درج کیا ہے- نیز دیکھیے مسند الموصلی، حدیث ۱۰۲۱، ۱۱۴۰
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم ان دونوں کتب میں یہ احادیث دیکھتے ہیں، تو وہاں قرآن و سنت کی جگہ ہمیں قرآن و اہلبیت ملتا ہے
صحیح مسلم میں یہ روایت جلد ۴، صفحہ ۲۱٦، روایت ۲۴۰۸ پر ہے
مسند ابی یعلے الموصلی میں یہ جلد ۲، صفحہ ۲۹۷ اور صفحہ ۳۷٦ پر ہے
اسکین نیچے ملاحظہ ہوں
شیخ سلیم واحد عالم نہیں کہ جنہوں نے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہو
اس فہرست میں شیخ صالح الفوزان بھی شامل ہیں
وہ اپنی کتاب  محاضرات في العقيدة والدعوة، جلد ۴، صفحہ ۲۵۳ پر قرآن و سنت کے الفاظ پر مشتمل روایت کی تحقیق میں حاشیہ پر رقمطراز ہیں کہ 
ترمذی نے اس کی روایت کی، حدیث ۳۷۸۸ پر
جب ہم ترمذی پڑھتے ہیں، تو شیخ البانی کی تحقیق شدہ، صحیح ترمذی کے جلد ۳، صفحہ ۵۴۳-۵۴۴؛ پر یہ حیدث ہمیں ملتی ہے، اور وہاں بھی قرآن و سنت کے نہیں، بلکہ قرآن و عترت اہلبیتکی بات ہوئی ہے
یعنی کمال ہے
جیسے علمائے اہلسنت نے تو تہیہ کیا ہوا ہے کہ بس یہ اہلبیت کو ہٹا کر، سنت ڈال دو
اب جب یہ دوڑ چل ہی رہی تھی تو  صالح بن غانم السدلان صاحب کیسے پیچھے رہتے؟
وہ بھی کود پڑے
بحوث أثر ندوة القرآن في تحقيق الوسطية ودفع الغلو نامی کتاب میں، جو کہ پی-ڈی-ایف فارمیٹ میں ہے، اس میں ایک باب ہے، الغلو في الدين بدعة حرمها الإسلام، اس کتاب کے صفحہ ۱۴٦، اسی باب میں وہ لکھتے ہیں
 وفي الحديث بإسناد حسن: " إني تارك فيكم الثقلين: كتاب الله ، وسنتي " أخرجه أحمد في مسنده ؛ ٣ /۱۷
کہ سند سند کی حدیث ہے میں تم میں ۲ چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ احمد نے اپنی مسند کی جلد ۳، صفحہ ۱۷؛ پر درج کی ہے
لنک ملاحظہ ہو- یہ کتاب کا پی ڈی ایف لنک ہے
اب جب مسند احمد میں یہ حدیث دیکھیں، تو سنتی کی بجائے عترتی اہلبیتی کے لفظ ملتے ہیں
االلہ جانے علمائے اہلسنت کو ایسی کی آفت آن پڑی تھی کہ تحریف کرنے پر تل گئے
کتب کے اسکین ملاحظہ ہوں


1.jpg


2.jpg


3.jpg


4.jpg

5.jpg

6.jpg

7.jpg



8.jpg

9.jpg


10.jpg

11.jpg

12.jpg



13.jpg

14.jpg



No comments:

Post a Comment