Monday, October 17, 2016

ماتم اور نوحہ

السلام علیکم

جیسے ہی ماہ محرم شروع ہوتا ہے، شیعان حیدر کرار پر عزاداری کو لے کر طعن و تشنیع کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ کئی سارے لوگ تو صحیح بخاری و دیگر سنی کتب کے حوالے دے کر ایسے اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ یہ ساری کتب تو ہم پر حجت ہیں۔  


بخاری صاحب کے بارے میں ہم پہلے ہی ایک مقالہ لکھ چکے ہیں۔جس میں ہم نے مکمل طور پر اس بات کو واضح کیا تھا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔ لنک ملاحظہ ہو- یاد رہے کہ یہ اہلسنت کے سب سے بڑے محدث ہیں۔ باقیوں کا خود اندازہ لگا لیں

Saturday, August 27, 2016

کیا حضرت ابن عباس نے اسرائیلیات سے تعلیم دی؟

السلام علیکم 

اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جب کوئی صحابی روایت بیان کرے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس نے نبی اکرم سے سنی ہے 

اس سلسلے میں ہم ایک مثال دینا چاہیں گے۔ امام حاکم نے اپنی مستدرک ، 2/535 پر ایک روایت درج کی ہے 

3822 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ} [الطلاق: 12] قَالَ: سَبْعَ أَرَضِينَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ وَآدَمُ كآدمَ، وَنُوحٌ كَنُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ كَإِبْرَاهِيمَ، وَعِيسَى كَعِيسَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 3822 - صحيح

نفاس کے احکام

السلام علیکم

ہمارے معاشرے میں کچھ موضوعات پر زیادہ نہیں لکھا جاتا، جس میں خواتین کے مسائل شامل ہیں۔ اس وجہ سے میں نے سوچا کہ اس موضوع پر لکھا جائے۔

 سب سے پہلے تو سوال یہ ہے کہ نفاس ہے کیا ؟

علامہ حلی اپنی کتاب شرائع الاسلام، صفحہ 37 پر اس کے بارے میں واضح کرتے ہیں کہ یہ وہ خون ہے جو کہ عورت کو بچہ پیدا ہونے کے بعد آتا ہے ۔ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی عورت کو خون آئے ہی نہ، یا پھر کچھ دیر کے لیے آئے، اس لیے اس کی کم سے کم مدت کوئی نہیں، تاہم یہ زیادہ سے زیادہ 10 دن تک شمار ہو گی۔ اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ کا شمار ہو گا۔

Monday, July 25, 2016

سادات کی عظمت

السلام علیکم 

آج کل مجھے کچھ حلقوں میں یہ محسوس ہوا کہ سادات کے بارے میں موجود روایات کو زیادہ موضوع سخن نہیں بنایا جاتا۔ اوراس موضوع پر ہمیں انٹر نیٹ پر کچھ خاص مواد بھی نہیں ملا، تو میں نے سوچا کہ اس پر ایک مختصر مقالہ لکھا جائے۔ اگر زیادہ تفصیل کے متلاشی ہوں،تو سید حسن ابطحی کی کتاب، انوار زہرا، کی طرف رجوع کریں 

موضوع کا آغاز ہم شیخ صدوق کے اس کلام سے کریں گے، جو انہوں نے اپنی کتاب الاعتقادات، صفحہ 111 پر کی ہے 

قال الشيخ - رضي الله عنه -: اعتقادنا في العلوية أنهم آل رسول الله، وأن مودتهم واجبة، لأنها أجر النبوة. قال عز وجل: (قل لا أسئلكم عليه أجرا إلا المودة في القربى). والصدقة عليهم محرمة، لأنها أوساخ أيدي الناس وطهارة لهم، إلا صدقتهم لإمائهم وعبيدهم، وصدقة بعضهم على بعض. وأما الزكاة فإنها تحل لهم اليوم عوضا عن الخمس، لأنهم قد منعوا منه. واعتقادنا في المسئ منهم أن عليه ضعف العقاب، وفي المحسن منهم أن له ضعف الثواب. وبعضهم أكفاء بعض، لقول النبي صلى الله عليه وآله وسلم حين نظر إلى بنين وبنات علي وجعفر ابني (أبي) طالب: (بناتنا كبنينا، وبنونا كبناتنا).

Wednesday, July 13, 2016

کیا (خوبصورت) عورت کو نماز کے دوران دیکھنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

السلام علیکم 

اس ضمن میں ہمیں اہلسنت کے ہاں ایک مسئلہ ملتا ہے۔ اہلسنت کے ایک جید عالم تھے، ابن خزیمہ۔ انہوں نے بھی ایک احادیث کی کتاب لکھی، جس کا نام ہے صحیح ابن خزیمہ۔ اب اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ یاد رہے جس طرح بخاری اور مسلم نے صحیح احادیث کا انتخاب کیا تھا، ابن خزیمہ نے بھی اپنا ایک اصول بنایا، اور اس پر جو روایات پوری اتریں، ان کو اس میں جمع کر دیا۔ 

موصوف نے جلد 3، صفحہ 97 پر ایک باب باندھا

الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا نَظَرَ إِلَى مَنْ خَلْفَهُ مِنَ النِّسَاءِ لَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ الْفِعْلُ صَلَاتَهُ

اس بات کی دلیل کہ اگر نمازی، اپنے پیچھے کھڑی عورت کو دیکھ لے، اس عمل سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی 

اور اس باب میں انہوں نے ایک روایت 2 سندوں کے ساتھ بیان کی کہ 

1696 - نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْحُدَّانِيَّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخِّرِ، فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} [الحجر: 24]

Tuesday, June 28, 2016

لیلۃ القدر اور امام زمانہ

السلام علیکم 

یہ بات تو سبھی کو معلوم ہے کہ رمضان میں لیلۃ القدر یا شب قدر ہوتی ہے۔ اور سارے ہی مسلمان اس رات کو بڑے ذوق و شوق سے عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔اب اس رات کی ایک اہمیت یہ کہ کہ اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں کل امر کے ساتھ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ائمہ اہلبیت کے کچھ ارشادات کو پیش کیا جائے 

ایک حدیث ہدیہ کرتے ہیں 

حدثنا أحمد بن محمد عن علي بن الحكم عن سيف بن عميرة عن داود بن فرقد قال سألته عن قول الله عز و جل إِنّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ ما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ قال نزل فيها ما يكون من السنة إلى السنة من موت أو مولود قلت له إلى من فقال إلى من عسى أن يكون إن الناس في تلك الليلة في صلاة و دعاء و مسألة و صاحب هذا الأمر في شغل تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ إليه بأمور السنة من غروب الشمس إلى طلوعها مِنْ كُلِّ أَمْر سَلامٌ هِيَ له إلى أن يطلع الفجر.

Sunday, June 26, 2016

مولا علی: اللہ کے علم، غیب، مخلوق اور دین کے امین

السلام علیکم 

آج اس رات کے مناسبت سے سوچا کہ ایک روایت کا جزو مومنین کی خدمت میں پیش کروں

یہ روایت میں الکافی، ج 1، ص 292 سے ھدیہ کر رہا ہوں
بنیادی طور پر روایت کافی طویل ہے۔ میں صرف اس قدر ہی ہدیہ کر رہا ہوں جتنا میرے موضوع سے متعلق ہے 
اردو ترجمہ میں یہ روایت ج 2، ص 209 پر موجود ہے 

امام الباقر علیہ السلام سے ملتا ہے 

قال أبوجعفر عليه السلام: كان والله [علي عليه السلام] أمين الله على خلقه وغيبه ودينه الذي ارتضاه لنفسه، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وآله حضره الذي حضر، فدعا عليا فقال: يا علي إني اريد أن أئتمنك على ما ائتمنني الله عليه من غيبه وعلمه ومن خلقه ومن دينه الذي ارتضاه لنفسه