Showing posts with label Shia Sunni. Show all posts
Showing posts with label Shia Sunni. Show all posts

Monday, April 29, 2019

حدیث قرطاس




السلام علیکم

اس حدیث کے حوالے سے چند روایات پیش خدمت ہیں؛ ان میں سے جو روایات صحیح بخاری و مسلم سے نقل کی گئیں ہیں، ان کے ترجمے ہم نے آن لائن لنک سے حاصل کیے 
مسند احمد کے لیے اس کے مترجم، مولوی ظفر کا ترجمہ استعمال کیا ہے، اور باقی کا خود کیا ہے

 آن لائن لنک یہ رہا


Tuesday, April 23, 2019

منافق کی پہچان مولا علی علیہ السلام سے بغض رکھنا



السلام علیکم

رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مومن و منافق میں ایک آسان سے فرق بتلایا۔ ہمیں معتبر حدیث میں ملتا ہے

642 - حدثنا ابن نمير حدثنا الأعمش عن عدي بن ثابت عن زرّ بين حُبيش قال: قال علي: والله إنه مما عهد إلي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه لا يبغِضني إلا منافق، ولا يحبني إلا مؤمن.

Saturday, April 22, 2017

حضرت ابو بکر کا نماز میں امامت کروانا: حقیقت یا افسانہ

السلام علیکم

اہلسنت کی جانب سے ابو بکر کے خلافت پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انہوں نے نماز میں امامت کروائی تھی۔ اس سلسلے میں برادر طیب اولاوئی نے انگلش میں اس موضوع پر کتاب لکھی۔ 

Sunday, February 19, 2017

عبداللہ ابن سبا: حقائق کی روشنی میں

السلام علیکم 

عبداللہ ابن سبا کو لے کر اہل تشیع پر کافی طعن و تنقید کی جاتی ہے۔ طیب اولاوئی نے انگریزی میں یہ کتب لکھ کر ان ساری باتوں کا جواب دیا ہے کہ جو اس موضوع سے وابستہ ہیں

امام المہدیؑ: بارہویں خلیفہ- اہلسنت کی معتبر روایات کی روشنی میں

السلام علیکم 

یہ کتاب بنیادی طور پر طیب اولاوئی نے انگریزی زبان میں تحریر کی ہے۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر میں نے سوچا کہ اس کا اردو ترجمہ کیا جائے۔ تاکہ اردو بولنے والے حضرات اس سے مستفید ہو سکیں۔۔

Saturday, November 19, 2016

زیارت امام حسین علیہ السلام کے ثواب پر اعتراض

السلام علیکم 

ناصبیوں کی جانب سے ان ایام میں بالخصوص یہ اعتراض آنا شروع ہو جاتا ہے کہ دیکھو یہ شیعہ امام حسین کی زیارت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا تو ایسا ثواب ہے جیسا کہ حج کا اور یہ گناہ بخشوا دیتا ہے وغیرہ 

یہاں پر ہم ایک بات کو واضح کرتے چلیں کہ جب کسی عمل کا ثواب بیان کیا جاتا ہے تو وہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کی ترغیب دی جائے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال ہم یوں دیں گے کہ بعض اوقات ایک عمل مستحب ہوتا ہے، مگر اس کا ثواب اتنا ہوتا ہے کہ وہ واجب سے بھی زیادہ ہوتا ہے 

Saturday, August 27, 2016

کیا حضرت ابن عباس نے اسرائیلیات سے تعلیم دی؟

السلام علیکم 

اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جب کوئی صحابی روایت بیان کرے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس نے نبی اکرم سے سنی ہے 

اس سلسلے میں ہم ایک مثال دینا چاہیں گے۔ امام حاکم نے اپنی مستدرک ، 2/535 پر ایک روایت درج کی ہے 

3822 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ} [الطلاق: 12] قَالَ: سَبْعَ أَرَضِينَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ وَآدَمُ كآدمَ، وَنُوحٌ كَنُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ كَإِبْرَاهِيمَ، وَعِيسَى كَعِيسَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 3822 - صحيح

Wednesday, July 13, 2016

کیا (خوبصورت) عورت کو نماز کے دوران دیکھنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

السلام علیکم 

اس ضمن میں ہمیں اہلسنت کے ہاں ایک مسئلہ ملتا ہے۔ اہلسنت کے ایک جید عالم تھے، ابن خزیمہ۔ انہوں نے بھی ایک احادیث کی کتاب لکھی، جس کا نام ہے صحیح ابن خزیمہ۔ اب اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ یاد رہے جس طرح بخاری اور مسلم نے صحیح احادیث کا انتخاب کیا تھا، ابن خزیمہ نے بھی اپنا ایک اصول بنایا، اور اس پر جو روایات پوری اتریں، ان کو اس میں جمع کر دیا۔ 

موصوف نے جلد 3، صفحہ 97 پر ایک باب باندھا

الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا نَظَرَ إِلَى مَنْ خَلْفَهُ مِنَ النِّسَاءِ لَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ الْفِعْلُ صَلَاتَهُ

اس بات کی دلیل کہ اگر نمازی، اپنے پیچھے کھڑی عورت کو دیکھ لے، اس عمل سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی 

اور اس باب میں انہوں نے ایک روایت 2 سندوں کے ساتھ بیان کی کہ 

1696 - نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْحُدَّانِيَّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخِّرِ، فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} [الحجر: 24]

Wednesday, April 20, 2016

حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو خلیفہ کیوں نہ بنایا؟

السلام علیکم 

ابن سعد اپنی طبقات، 3/343، پر ایک روایت درج کرتے ہیں

قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: " مَنْ أَسْتَخْلِفْ لَوْ كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكَ اللَّهُ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ اللَّهَ بِهَذَا، أَسْتَخْلِفُ رَجُلًا لَيْسَ يُحْسِنُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ "

Sunday, March 6, 2016

حضرت عائشہ کا مدینے کے قحط میں نبی اکرم کی قبر سے توسل کا کہنا

السلام علیکم 


92 - حدثنا أبو النعمان ثنا سعيد بن زيد ثنا عمرو بن مالك النكري حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد الله قال : قحط أهل المدينة قحطا شديدا فشكوا إلى عائشة فقالت انظروا قبر النبي صلى الله عليه و سلم فاجعلوا منه كووا إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف قال ففعلوا فمطرنا مطرا حتى نبت العشب وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم فسمي عام الفتق 
قال حسين سليم أسد : رجاله ثقات وهو موقوف على عائشة

کیا صحابہ اس امت میں سب سے افضل ہیں؟

السلام علیکم

برادران اہلسنت کو ان کے علماء یہ بات ازبر کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ صحابہ کرام اس امت میں سب سے افضل ہیں۔ 

چلیے، دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم نے اس بارے میں کیا فرمایا

مستدرک امام حاکم بصحیح الذھبی، 6/42 پر ایک روایت ملتی ہے 


6992 – حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي بحمص ثنا عبد القدوس بن الحجاج ثنا الأوزاعي ثنا أسيد بن عبد الرحمن حدثني صالح بن محمد عن أبي جمعة قال : تغدينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و معنا أبو عبيدة بن الجراح قال : فقلنا يا رسول الله أحد خير منا أسلمنا معك و جاهدنا معك ؟ قال : نعم قوم يكونون بعدكم يؤمنون بي ولم يروني
هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه
تعليق الذهبي قي التلخيص : صحيح

Thursday, March 3, 2016

ابو ہریرہ کا قسمیں اٹھا کر حدیث بتلانا، اور پھر اس سے پیچھے ہو جانا

السلام علیکم

ہمارے کسی بھی پوسٹ کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں، بلکہ صرف حق بات مستند کتب و اسناد سے لوگوں کی خدمت میں پہنچانا ہے

برادران اہلسنت کے ہاں  ابو ہریرہ کا بہت ہی اونچا درجہ ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ وہ صحابی ہیں، دوسرا یہ کہ سب سے زیادہ روایات بھی انہی سے مروی ہیں

مگر کیا ان کی روایات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ کیا ان کے زمانے میں ان کی روایات پر بھروسہ کیا جاتا تھا؟ اس عنوان سے  چند روایات پیش خدمت ہیں

 مسند احمد، اردو ترجمہ، 4/72 پر ایک روایت ملتی ہے جو کہ آن لائن لنک پر ج 2 ص 248 سے کاپی کر رہا ہوں

7382 - حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا سفيان عن عمرو عن يحيى بن جعدة عن عبد الله بن عمرو القارىء قال سمعت أبا هريرة يقول لا ورب هذا البيت ما أنا قلت : من أصبح جنبا فلا يصوم محمد ورب البيت قاله ما أنا نهيت عن صيام يوم الجمعة محمد نهى عنه ورب البيت 
تعليق شعيب الأرنؤوط : صحيح

Tuesday, March 1, 2016

میت کے لیے رونا، اور بے جان چیز کو چومنا دیوبندی مفتی کی نظر میں

السلام علیکم 

بنوری ٹاؤن سے فارغ التحصیل مفتی، سید عدنان کاکاخیل کا ایک مقالہ پڑھا، جو انہوں نے ممتاز قادری کے حوالے سے لکھا۔ عنوان انہوں نے یہ رکھا 

جب میں ضبط کھو بیٹھا

موصوف اس میں فرماتے ہیں

ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی 

Saturday, February 27, 2016

حضرت ابو بکر کی بیعت کے حالات: ایک وہابی عالم کی زبانی

السلام علیکم 

ایک وہابی ویب سائٹ ہے، اسلام کیو اے، یہ ویب سائٹ سلفی عالم شیخ محمد صالح المنجد کی زیر نگرانی ہے۔ یہ موصوف ابن باز، البانی، عثیمین وغیرہ کے شاگرد ہیں

یہ اس بیعت کے حالات لکھتے ہیں۔ 

ہم نے جن جگہوں کو نقل کیا ہے، ان کا عکس ہمارے ترجمہ کے آخر میں ملاحظہ کریں 

موصوف فرماتے ہیں

يذكر المؤرخون والمحدِّثون حادثةً في صدر التاريخ ، فيها ذكر قدوم عمر بن الخطاب وطائفة من أصحابه بيتَ فاطمةَ بنتِ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يطلبُ تقديم البيعة لأبي بكر الصديق ، رضي الله عنهم جميعا .

مورخین اور محدثین نے اسلامی تاریخ کے آغاز میں ایک حادثے کا ذکر کیا ہے کہ عمر اور صحابہ کا ایک گروہ بی بی فاطمہ علیہ السلام کے گھر آیا، اور ان سے ابو بکر کی بیعت کا مطالبہ کیا 

Friday, February 19, 2016

حضرت ابو طالب: اہل تشیع کی روایات میں

السلام علیکم 

اس موضوع پر کچھ روایات اہلبیت ہدیہ کرنا چاہوں گا۔ مگر پہلے یہ بتاتا چلوں کہ تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ جو کام حضرت ابو طالب نے کیا، وہ کئی صحابہ مل کر بھی نہ کر سکے۔ وہ ختمی مرتبت کے ناصر تھے، اور جب تک وہ زندہ رہے، کبھی کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آپ پر تلوار اٹھائے 

اس مقالے میں ہم نے کوشش یہ کی ہے کہ مستند روایات ہی پیش کی جا سکیں۔ روایات پر حکم کے لیے ہم نے علامہ مجلسی و دیگر کی تحقیق پیش کی ہے۔ جہاں پر ہم نے سند پر اپنا حکم لگایا ہے، اس کے راویان کی وضاحت ہم نے حاشیہ میں کی ہے تا کہ وہ لوگ جو وجہ جاننا چاہیں، وہ پڑھ سکیں۔ 

الکافی، ا/449 پر ایک روایت ملتی ہے 

1 3 - علي، عن أبيه، عن ابن أبي نصر، عن إبراهيم بن محمد الأشعري، عن عبيد بن زرارة، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: لما توفى أبو طالب نزل جبرئيل على رسول الله صلى الله عليه وآله فقال: يا محمد اخرج من مكة، فليس لك فيها ناصر، وثارت قريش بالنبي صلى الله عليه وآله، فخرج هاربا حتى جاء إلى جبل بمكة يقال له الحجون فصار إليه.

Wednesday, February 10, 2016

حضرت عثمان کو بچانے کے لیے سنن دارمی کی روایت میں تحریف؟

السلام علیکم 

سنن دارمی، تحقیق حسین سلیم اسد، ج 2، ص 962 پر ایک روایت یوں ملتی ہے 

1580 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ، [ص:963] فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا زِدْتُ أَنْ تَوَضَّأْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ، فَقَالَ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا؟ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلْيَغْتَسِلْ» 
[تعليق المحقق] إسناده صحيح

Monday, February 8, 2016

نبی اکرم کے پاس زمین و آسمان کا علم

السلام علیکم 

سنن دارمی، ج 5، ص 1365 پر ایک روایت درج ہے 

2195 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، وَسَأَلَهُ، مَكْحُولٌ أَنْ يُحَدِّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:1366] يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: «أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ» ، قَالَ: " فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، [ص:1367] فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَتَلَا {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} 

Saturday, February 6, 2016

ابن تیمیہ کا سورہ ھل اتی کے بارے میں غلط بیانی کرنا

السلام علیکم 

ابن تیمیہ سلفی و ناصبی حضرات کے سب سے پسندیدہ عالم ہیں۔ موصوف نے اہل تشیع کے رد میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام ہے  منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية؛ اس کتاب کے ج 7، ص 179 پر موصوف یہ دعوی کرتے ہیں 

وَسُورَةُ " هَلْ أَتَى " مَكِّيَّةٌ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ التَّفْسِيرِ وَالنَّقْلِ، لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: إِنَّهَا مَدَنِيَّةٌ.

سورہ ھل اتی مکی ہے، اور اس پر تمام اہل تفسیر و حدیث کا اتفاق ہے۔ کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ مدنی ہے 

Wednesday, February 3, 2016

حضرت عائشہ اور حضرت عثمان کا اللہ کے حکم کے خلاف تاویل کرنا

السلام علیکم 

صحیح بخاری، 2/44، حدیث 1090؛ صحیح مسلم، 1/478، حدیث 685؛ اور عبد ابن حمید اپنی المنتخب،2/360، حدیث 1475 پر ایک مستند روایت درج کرتے ہیں۔ ہم یہ روایت المنتخب من مسند عبد بن حمید، تحقیق شیخ مصطفی عدوی؛ سے پیش کر رہے ہیں

1475- أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فُرِضَتْ أَرْبَعًا، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ.
قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لعُرْوَةَ: فَمَا كَانَ يَحْمِلُ عَائِشَةَ عَلَى أَنْ تُتِمَّ فِي السَّفَرِ، وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّ اللہ  -عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ؟! فَقَالَ: تَأَوَّلَتْ مِنْ ذَلِكَ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ مِنْ إِتْمَامِ الصَّلَاةِ بِمِنًى.

Monday, February 1, 2016

حضرت ابو ذر کا ربذہ جانا، اور ان کے آخری لمحات

السلام علیکم 

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا شمار جید ترین صحابہ میں ہوتا ہے 

ان کے بارے میں اکثر لوگ یوں بیان کرتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی مرضی سے ربذہ گئے 

اس بارے میں ایک روایت ملاحظہ ہو 

طبقات ابن سعد، ج 4، ص 171-172 پر ایک روایت یوں ملتی ہے 

قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ سِيدَانَ السُّلَمِيِّ قَالَ: تَنَاجَى أَبُو ذَرٍّ وَعُثْمَانُ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا.
ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُو ذَرٍّ مُتَبَسِّمًا فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: مَا لَكَ وَلأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: سَامِعٌ مُطِيعٌ وَلَوْ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ صَنْعَاءَ أَوْ عَدْنَ ثُمَّ اسْتَطَعْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ. وَأَمَرَهُ عثمان أن يخرج إلى الربذة.