Showing posts with label Abu Bakar. Show all posts
Showing posts with label Abu Bakar. Show all posts

Saturday, April 22, 2017

حضرت ابو بکر کا نماز میں امامت کروانا: حقیقت یا افسانہ

السلام علیکم

اہلسنت کی جانب سے ابو بکر کے خلافت پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انہوں نے نماز میں امامت کروائی تھی۔ اس سلسلے میں برادر طیب اولاوئی نے انگلش میں اس موضوع پر کتاب لکھی۔ 

Saturday, February 27, 2016

حضرت ابو بکر کی بیعت کے حالات: ایک وہابی عالم کی زبانی

السلام علیکم 

ایک وہابی ویب سائٹ ہے، اسلام کیو اے، یہ ویب سائٹ سلفی عالم شیخ محمد صالح المنجد کی زیر نگرانی ہے۔ یہ موصوف ابن باز، البانی، عثیمین وغیرہ کے شاگرد ہیں

یہ اس بیعت کے حالات لکھتے ہیں۔ 

ہم نے جن جگہوں کو نقل کیا ہے، ان کا عکس ہمارے ترجمہ کے آخر میں ملاحظہ کریں 

موصوف فرماتے ہیں

يذكر المؤرخون والمحدِّثون حادثةً في صدر التاريخ ، فيها ذكر قدوم عمر بن الخطاب وطائفة من أصحابه بيتَ فاطمةَ بنتِ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يطلبُ تقديم البيعة لأبي بكر الصديق ، رضي الله عنهم جميعا .

مورخین اور محدثین نے اسلامی تاریخ کے آغاز میں ایک حادثے کا ذکر کیا ہے کہ عمر اور صحابہ کا ایک گروہ بی بی فاطمہ علیہ السلام کے گھر آیا، اور ان سے ابو بکر کی بیعت کا مطالبہ کیا 

Tuesday, February 25, 2014

کیا بی بی فاطمہ کی نماز جنازہ ابو بکر نے پڑھائی؟

 
کچھ نواصب کی جانب سے ایک روایت پیش کی گئی، جس میں ایک جملہ آتا ہے

Quote
 
وكبر أبو بكر على فاطمة أربعا 
 
کہ ابو بکر نے بی بی فاطمہ پر ۴ تکبیریں پڑھائیں

 
 
اب یہ روایت ۲ کتب کے حوالے سے پیش کی گئی،
 
 
ایک تاریخ دمشق، جلد ۷، صفحہ ۴۵۸؛ جس میں یہ سند مذکور ہے

Friday, February 21, 2014

نبی کے وارث ان کے اہلخانہ ہیں: ابو بکر

 
ہم ابو بکر کی زبانی یہ قول دیکھائیں گے کہ نبی کے اہلخانہ ان کے وارث ہیں۔ اس مقصد کے لیے، ہم مسند احمد کے اردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں گے، اور انہی کے ترجمہ سے استفادہ کریں گے
 
 
مسند احمد، اردو ترجمہ، جلد ۱، صفحہ ۷۷، روایت ۱۴؛ میں آتا ہے کہ 
 
 
ابو الطفیل کہتے ہیں کہ جب نبی کا وصال مبارک ہو گیا تو حضرت فاطمہ نے حضرت صدیق اکبر کے پاس ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ نبی کے وارث آپ ہیں یا نبی کے اہل خانہ؟ انہوں نے جواب فرمایا کہ نبی کے اہلخانہ ہی ان کے وارث ہیں۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا تو پھر نبی کا حصہ کدھر ہے؟ حضرت صدیق اکبر نے جواب دیا کہ میں نے خود جناب رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالی اپنے نبی کو کوئی چیز کہلاتا ہے پھر انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے تو اس کا نظم و نسق اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خلیفہ وقت ہو، اس لیے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دوں۔ یہ تفصیل سن کو حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ نبی سے جو آپ نے سنا ہے، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا 
 
 
عربی متن یوں ہے
 

نبی کے وارث ان کے اہلخانہ ہیں: ابو بکر

 
ہم ابو بکر کی زبانی یہ قول دیکھائیں گے کہ نبی کے اہلخانہ ان کے وارث ہیں۔ اس مقصد کے لیے، ہم مسند احمد کے اردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں گے، اور انہی کے ترجمہ سے استفادہ کریں گے
 
 
مسند احمد، اردو ترجمہ، جلد ۱، صفحہ ۷۷، روایت ۱۴؛ میں آتا ہے کہ 
 
 
ابو الطفیل کہتے ہیں کہ جب نبی کا وصال مبارک ہو گیا تو حضرت فاطمہ نے حضرت صدیق اکبر کے پاس ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ نبی کے وارث آپ ہیں یا نبی کے اہل خانہ؟ انہوں نے جواب فرمایا کہ نبی کے اہلخانہ ہی ان کے وارث ہیں۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا تو پھر نبی کا حصہ کدھر ہے؟ حضرت صدیق اکبر نے جواب دیا کہ میں نے خود جناب رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالی اپنے نبی کو کوئی چیز کہلاتا ہے پھر انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے تو اس کا نظم و نسق اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خلیفہ وقت ہو، اس لیے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دوں۔ یہ تفصیل سن کو حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ نبی سے جو آپ نے سنا ہے، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا 
 
 
عربی متن یوں ہے
 

Thursday, February 20, 2014

کیا رسول اللہ کی چھوڑی ہوئی ساری اشیا صدقہ ہوئیں؟

 
سنی عالم، حمزة محمد قاسم، اپنی کتاب: منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، جلد ۴، صفحہ ۱۳۲؛ میں رقمطراز ہیں کہ 
 

Wednesday, February 19, 2014

نبی پاک کا ابوبکر و عمر کے مشورے کو توجہ نہ دینا، اور سنی مترجم کی تحریف

 
مسند امام احمد بن حنبل، جلد ۲۱، صفحہ ۲۱-۲۲، روایت ۱۳۲۹٦، تحقیق شیخ شعیب الارناوط؛ میں ایک روایت آتی ہے کہ 
 
 
انس کہتے ہیں کہ نبی پاک نے مشورہ کیا بدر کے دن، تو ابو بکر نے کلام کیا، تو آپ نے ان سے اعراض کیا(یعنی توجہ نہ دی)، پھر عمر نے بات کی، تو آپ نے اعراض کیا، پھر انصار بولے کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ ہم سے ہے؟ مقداد نے کہا۔۔۔۔۔۔
 
عربی متن یوں ہے

Saturday, February 15, 2014

کیا حضرت علی علیہ السلام خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے؟

 
اس مختصر سے مقالے میں ہم اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ کیا حضرت علی خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے؟ نیز کیا وہ دیگر خلافتوں سے خوش تھے، یا پھر صبر سے کام لے رہے تھے؟
 
 
آغاز ہم صحیح بخاری کی اس روایت سے کرتے ہیں۔ عمر نے کہا 
 
 
حِينَ تَوَفَّی اللہُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا 
 
جس وقت اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ ہم سب سے بہتر تھے، مگر انصارؓ نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر رضی اللہ عہنما نے بھی ہماری مخالفت کی
 
 

دیوبندی عالم، یوسف لدھیانوی کا بی بی فاطمہ و بیعت حضرت علی کے بارے میں بیان

 
مشہور دیوبندی عالم، محمد یوسف لدھیانوی سے ان کی کتاب، آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد ۱۰، صفحہ ۸۵-۸٦، طبع مکتبہ لدھیانوی، ۲۰۰۲ء؛ پر ایک سوال ہوا، وہ سوال اور اس کا جواب ملاحظہ ہو

Quote
 
س: جناب فاطمہ کی دلی حالت مرتے دم تک ان تین خلفاء سے کیسی رہی؟ اگر آپ رضامند تھیں تو آپ نے اور آپ کے شوہر حضرتے علی نے اپنی حیات تک بیعت کیوں نہ کی؟ اور اگر آپ ان لوگوں سے ناراض تھین اور آپ نے اسی حالت میں انتقال فرمایا تو آپ کا اعتقاد مذہبی وہی ہوا ناں جو شیعوں کا ہے؟
 
ج: حضرت فاطمہ حضرت ابو بکر سے راضی تھیں، اور حضرت علی نے حضرت ابو بکر سے بعیت بھی کی تھی