Showing posts with label Aqeeda. Show all posts
Showing posts with label Aqeeda. Show all posts

Tuesday, April 23, 2019

منافق کی پہچان مولا علی علیہ السلام سے بغض رکھنا



السلام علیکم

رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مومن و منافق میں ایک آسان سے فرق بتلایا۔ ہمیں معتبر حدیث میں ملتا ہے

642 - حدثنا ابن نمير حدثنا الأعمش عن عدي بن ثابت عن زرّ بين حُبيش قال: قال علي: والله إنه مما عهد إلي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه لا يبغِضني إلا منافق، ولا يحبني إلا مؤمن.

Sunday, February 19, 2017

امام المہدیؑ: بارہویں خلیفہ- اہلسنت کی معتبر روایات کی روشنی میں

السلام علیکم 

یہ کتاب بنیادی طور پر طیب اولاوئی نے انگریزی زبان میں تحریر کی ہے۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر میں نے سوچا کہ اس کا اردو ترجمہ کیا جائے۔ تاکہ اردو بولنے والے حضرات اس سے مستفید ہو سکیں۔۔

Monday, July 25, 2016

سادات کی عظمت

السلام علیکم 

آج کل مجھے کچھ حلقوں میں یہ محسوس ہوا کہ سادات کے بارے میں موجود روایات کو زیادہ موضوع سخن نہیں بنایا جاتا۔ اوراس موضوع پر ہمیں انٹر نیٹ پر کچھ خاص مواد بھی نہیں ملا، تو میں نے سوچا کہ اس پر ایک مختصر مقالہ لکھا جائے۔ اگر زیادہ تفصیل کے متلاشی ہوں،تو سید حسن ابطحی کی کتاب، انوار زہرا، کی طرف رجوع کریں 

موضوع کا آغاز ہم شیخ صدوق کے اس کلام سے کریں گے، جو انہوں نے اپنی کتاب الاعتقادات، صفحہ 111 پر کی ہے 

قال الشيخ - رضي الله عنه -: اعتقادنا في العلوية أنهم آل رسول الله، وأن مودتهم واجبة، لأنها أجر النبوة. قال عز وجل: (قل لا أسئلكم عليه أجرا إلا المودة في القربى). والصدقة عليهم محرمة، لأنها أوساخ أيدي الناس وطهارة لهم، إلا صدقتهم لإمائهم وعبيدهم، وصدقة بعضهم على بعض. وأما الزكاة فإنها تحل لهم اليوم عوضا عن الخمس، لأنهم قد منعوا منه. واعتقادنا في المسئ منهم أن عليه ضعف العقاب، وفي المحسن منهم أن له ضعف الثواب. وبعضهم أكفاء بعض، لقول النبي صلى الله عليه وآله وسلم حين نظر إلى بنين وبنات علي وجعفر ابني (أبي) طالب: (بناتنا كبنينا، وبنونا كبناتنا).

Tuesday, June 28, 2016

لیلۃ القدر اور امام زمانہ

السلام علیکم 

یہ بات تو سبھی کو معلوم ہے کہ رمضان میں لیلۃ القدر یا شب قدر ہوتی ہے۔ اور سارے ہی مسلمان اس رات کو بڑے ذوق و شوق سے عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔اب اس رات کی ایک اہمیت یہ کہ کہ اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں کل امر کے ساتھ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ائمہ اہلبیت کے کچھ ارشادات کو پیش کیا جائے 

ایک حدیث ہدیہ کرتے ہیں 

حدثنا أحمد بن محمد عن علي بن الحكم عن سيف بن عميرة عن داود بن فرقد قال سألته عن قول الله عز و جل إِنّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ ما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ قال نزل فيها ما يكون من السنة إلى السنة من موت أو مولود قلت له إلى من فقال إلى من عسى أن يكون إن الناس في تلك الليلة في صلاة و دعاء و مسألة و صاحب هذا الأمر في شغل تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ إليه بأمور السنة من غروب الشمس إلى طلوعها مِنْ كُلِّ أَمْر سَلامٌ هِيَ له إلى أن يطلع الفجر.

Sunday, June 26, 2016

مولا علی: اللہ کے علم، غیب، مخلوق اور دین کے امین

السلام علیکم 

آج اس رات کے مناسبت سے سوچا کہ ایک روایت کا جزو مومنین کی خدمت میں پیش کروں

یہ روایت میں الکافی، ج 1، ص 292 سے ھدیہ کر رہا ہوں
بنیادی طور پر روایت کافی طویل ہے۔ میں صرف اس قدر ہی ہدیہ کر رہا ہوں جتنا میرے موضوع سے متعلق ہے 
اردو ترجمہ میں یہ روایت ج 2، ص 209 پر موجود ہے 

امام الباقر علیہ السلام سے ملتا ہے 

قال أبوجعفر عليه السلام: كان والله [علي عليه السلام] أمين الله على خلقه وغيبه ودينه الذي ارتضاه لنفسه، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وآله حضره الذي حضر، فدعا عليا فقال: يا علي إني اريد أن أئتمنك على ما ائتمنني الله عليه من غيبه وعلمه ومن خلقه ومن دينه الذي ارتضاه لنفسه

Wednesday, May 11, 2016

اہلبیت سے محبت کرنا، ان کا ذکر کرنا، اور اس دوران گریہ کرنا گناہوں سے بخشش کا باعث

السلام علیکم

شیخ صدوق اپنی  کتاب ثواب الاعمال، ص 187 پر ایک روایت تحریر کرتے ہیں 

حدثني محمد بن الحسن عن محمد بن الحسن الصفار قال حدثني أحمد ابن اسحق بن سعيد عن بكر بن محمد الازدي عن أبي عبد الله عليه السلام قال: تجلسون وتتحدثون، قال: قلت جعلت فداك نعم قال ان تلك المجالس احبها فاحبوا أمرنا انه من ذكرنا وذكرنا عنده فخرج من عينه مثل جناح الذبابة غفر الله ذنوبه ولو كانت اكثر من زبد البحر.

Sunday, March 6, 2016

حضرت عائشہ کا مدینے کے قحط میں نبی اکرم کی قبر سے توسل کا کہنا

السلام علیکم 


92 - حدثنا أبو النعمان ثنا سعيد بن زيد ثنا عمرو بن مالك النكري حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد الله قال : قحط أهل المدينة قحطا شديدا فشكوا إلى عائشة فقالت انظروا قبر النبي صلى الله عليه و سلم فاجعلوا منه كووا إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف قال ففعلوا فمطرنا مطرا حتى نبت العشب وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم فسمي عام الفتق 
قال حسين سليم أسد : رجاله ثقات وهو موقوف على عائشة

Tuesday, March 1, 2016

میت کے لیے رونا، اور بے جان چیز کو چومنا دیوبندی مفتی کی نظر میں

السلام علیکم 

بنوری ٹاؤن سے فارغ التحصیل مفتی، سید عدنان کاکاخیل کا ایک مقالہ پڑھا، جو انہوں نے ممتاز قادری کے حوالے سے لکھا۔ عنوان انہوں نے یہ رکھا 

جب میں ضبط کھو بیٹھا

موصوف اس میں فرماتے ہیں

ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی 

Monday, February 8, 2016

نبی اکرم کے پاس زمین و آسمان کا علم

السلام علیکم 

سنن دارمی، ج 5، ص 1365 پر ایک روایت درج ہے 

2195 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، وَسَأَلَهُ، مَكْحُولٌ أَنْ يُحَدِّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:1366] يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: «أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ» ، قَالَ: " فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، [ص:1367] فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَتَلَا {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} 

Thursday, January 28, 2016

نبی اکرم کی بعد از وفات زندگی اور کائنات میں تصرف

السلام علیکم 

سیوطی کا شمار اہلسنت کے جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ ان کی ایک کتاب، تفسیر در منثور کا نام تو شاید ہی کسی نے نہ سنا ہو۔ 

اپنی کتاب الحاوی للفتاوی، ج 2، ص 317 پر وہ ایک بحث درج کرتے ہیں۔ میں وہ بحث آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ نتیجہ اخذ کرنا اپ کا اپنا کام ہے 

وَفَصَّلَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِيِّ فَقَالَ: رُؤْيَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصِفَتِهِ الْمَعْلُومَةِ إِدْرَاكٌ عَلَى الْحَقِيقَةِ، وَرُؤْيَتُهُ عَلَى غَيْرِ صِفَتِهِ إِدْرَاكٌ لِلْمِثَالِ، وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ، وَلَا يَمْتَنِعُ رُؤْيَةُ ذَاتِهِ الشَّرِيفَةِ بِجَسَدِهِ وَرُوحِهِ، وَذَلِكَ لِأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَائِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَحْيَاءٌ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ أَرْوَاحُهُمْ بَعْدَ مَا قُبِضُوا وَأُذِنَ لَهُمْ بِالْخُرُوجِ مِنْ قُبُورِهِمْ وَالتَّصَرُّفِ فِي الْمَلَكُوتِ الْعُلْوِيِّ وَالسُّفْلِيِّ، 

کیا حضرت عمر ولایت تکوینیہ رکھتے تھے؟

السلام علیکم 

کئی سارے لوگ اس بنیاد پر اہل تشیع کی تکفیر کرتے ہیں کہ وہ ولایت تکوینیہ کے قائل ہیں

حالانکہ وہ خود بھی اس سے ملتے جلتے ایک عقیدے کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ تاثیر الکونی کہلاتی ہے۔ اور ان کے ہاں بھی کرامات اولیاء کا مانا جاتا ہے۔ اس موضوع پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ عنوان یہ ہے 


اج اسی موضوع پر ایک اور حوالہ پیش خدمت ہے

اور وہ یہ کہ کیا حضرت عمر ولایت تکوینیہ یا تاثیر الکونیہ کے حامل تھے؟

اہلسنت کے جید عالم، شمس الدین سخاوی اپنی کتاب التحفۃ اللطیفہ فی تاریخ المدینہ الشریفہ، ج 2، ص 337 پر حضرت عمر کے بارے میں لکھتے ہیں 

Sunday, October 4, 2015

کیا یہ کہنا شرک ہے کہ نبی اکرم ہمارے گناہ معاف کر دیں؟

السلام علیکم 

آپ لوگ اس بات سے تو بخوبی آگاہ ہوں گے کہ حدیث کی 3 اقسام ہیں
قول، فعلی اور تقریری؛ یعنی یا تو نبی اکرم نے کوئی بات کہی، یا کوئی عمل کیا، یا پھر آپ کے سامنے کوئی عمل ہوا، مگر آپ نے اس پر کچھ نہیں کہا

اب ایک روایت مسند امام احمد، ج 29، ص 360، سے پیش کرتے ہیں۔ یہ روایت اردو ترجمہ میں ج 7، ص 359 پر موجود ہے 

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ: لَمَّا أَلْقَى الله عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي، فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: لَا أُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ حَتَّى تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَمْرُو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، يَا عَمْرُو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ ")

Friday, October 2, 2015

عصمت انبیاء کے لیے واجب ہے، دوسروں کے لیے ممکن ہے

السلام علیکم 

اکثر آپ نے یہ سوال سنا ہو گا کہ شیعہ تو اس وجہ سے بھی کافر ہیں کہ یہ اپنے ائمہ کو معصوم مانتے ہیں

چلیے آپ کو اہلسنت علماء کی زبانی سنائیں کہ کیا دوسرے لوگوں کے لیے عصمت ممکن ہے کہ نہیں 

علامہ مبارکپوری اپنی کتاب، تحفۃ الاحوذی، ج 10، ص 123 پر تحریر کرتے ہیں؛ اور اس سے ملتے جلتے قول کے متعلق مشہور وہابی ویب سائٹ اسلام ویب کے فتوی سینٹر سے ایک سائل یوں سوال کرتے ہیں 

أرجو شرح هذا الكلام, ففي منة المنعم في شرح صحيح مسلم للمباركفوري في الجزء الرابع ص83 يقول التالي: العصمة واجبة في حق الأنبياء, ممكنة في حق غيرهم.

Saturday, August 29, 2015

شیطان کا حضرت سلیمان کی بیویوں کے ساتھ بدفعلی کرنا

السلام علیکم

ابن ابی حاتم کا شمار اہلسنت کے جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ وہ ان کے علم جرح و تعدیل کے بڑے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں، اور ان کی رائے کو کافی وقعت دی جاتی ہے۔ انہوں نے ایک تفسیر لکھی کہ جس کے سارے روایت کو انہوں نے مسنتد جانا۔ اس تفسیر کو ابن کثیر و سیوطی وغیرہ نے کافی اہمیت دی، اور جا بجا اسے نقل کیا

ابن ابی حاتم اپنی تفسیر کے ج 10، ص 3241-3242 پر ایک واقعہ نقل کرتے ہیں پورا واقعہ تو نقل نہیں کریں گے، جتنا ہمارے موضوع سے متعلق ہے، وہی ترجمہ کریں گے
فرماتے ہیں کہ

قَوْلُهُ تَعَالَى: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ
18355 - وَبِسَنَدٍ قَوَيٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي فَأَعْطَتْهُ فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ، فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ الْخَلَاءِ قال لها: هَاتِي خَاتَمِي فَقَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ: أَنَا سُلَيْمَانُ إِلا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ.
فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدَّ عَلَى سليمان عليه السلام سلطانه ألْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ «1» سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالُوا لهن أيكون من سليمان شيء؟ قلنا: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ، وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ 

Friday, August 28, 2015

کیا صرف صحیح حدیث کی بنیاد ہر اہلسنت کے ہاں عقیدہ قائم کیا جا سکتا ہے؟

السلام علیکم

کئی بار میں نے یہ دیکھا کہ برادران اہلسنت صرف قرآن سے دلیل مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم کچھ جید علماء کے اقوال پیش کریں گے۔

سب سے پہلے ہم ابن تیمیہ کا قول دیکھتے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں

مذهب أصحابنا أن أخبار الآحاد المتلقاة بالقبول تصلح لإثبات أصول الديانات

Thursday, January 29, 2015

تمام انبیاء کا ولایتِ علی علیہ السلام کی گواہی دینا: مستند شیعہ روایت


السلام علیکم 

برادر ناصر الحسین کا شمار عرب شیعہ دنیا کے جید محققین میں ہوتا ہے ۔ اپنے ایک مقالے میں برادر نے ایک مستند شیعہ روایت کی طرف نشاندہی کی

روایت بنیادی طور پر سید ابن طاووس کی کتاب الیقین، صفحہ ۲۹۴ پر ہے

سید ابن طاووس اپنی سند بیان کرتے ہیں محمد بن عباس بن مروان کی کتاب، فيما نزل من القرآن في النبي وآله عليهم السلام، تک، اور پھر محمد بن عباس بن مروان اپنی سند سے امام جعفر الصادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام عالی مقام

Wednesday, January 14, 2015

تاثیر الکوںی اور کراماتِ اولیا



السلام علیکم 

اکثر اوقات ناصبیوں کی جانب سے ولایتِ تکوینیہ کو لے کر اہل تشیع پر طعن کیا جاتا ہے۔ چلیے ناصبیوں کے پسندیدہ عالم، ابن تیمیہ کی رائے جانتے ہیں۔ موصوف اپنے مجموع الفتاوی، ج ۱۱، ص ۳۲۴-۳۲۵، پر رقمطراز ہیں

و اما الثالث فمن يجتمع له الأمران بأن يؤتى من الكشف
والتأثيرالكونى ما يؤيد به الكشف والتأثير الشرعى وهو علم الدين والعمل به والأمر به ويؤتى من علم الدين والعمل به ما يستعمل به الكشف والتأثير الكونى بحيث تقع الخوارق الكونية تابعة للاوامر الدينية أو ان تخرق له العادة فى الأمور الدينية بحيث ينال من العلوم الدينية ومن العمل بها ومن الأمر بها ومن طاعة الخلق فيها وما لم ينله غيره فى مطرد العادة فهذه أعظم الكرامات والمعجزات وهو حال نبينا محمد وأبى

Wednesday, January 7, 2015

نابینا صحابی کا نبی اکرم سے توسل



السلام علیکم

سنن ابن ماجہ، ج ۲، ص ۳۸۳، حدیث ۱۳۸۵، پر ایک روایت ملتی ہے 

[1385] حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ، أَتَى النَّبِيَّ (ص) فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يُعَافِيَنِي، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ "، فَقَالَ: ادْعُهْ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ "، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

Thursday, December 25, 2014

قبر کو مس کرنے اور چومنے میں کوئی مسئلہ نہیں: احمد بن حنبل



السلام علیکم 

صحیح بخاری کے مشہور شارح، بدر الدین عینی، اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد ۱۴، صفحہ ۴۷۱؛ میں رقمطراز ہیں


وقال أيضا وأما تقبيل الأماكن الشريفة على قصد التبرك وكذلك تقبيل أيدي الصالحين وأرجلهم فهو حسن محمود باعتبار القصد والنية وقد سأل أبو هريرة الحسن رضي الله تعالى عنه أن يكشف له المكان الذي قبله رسول الله وهو سرته فقبله تبركا بآثاره وذريته وقد كان ثابت البناني لا يدع يد أنس رضي الله تعالى عنه حتى يقبلها ويقول يد مست يد رسول الله وقال أيضا وأخبرني الحافظ أبو سعيد ابن العلائي قال رأيت في كلام أحمد بن حنبل في جزء قديم عليه خط ابن ناصر وغيره من الحفاظ أن الإمام أحمد سئل عن تقبيل قبر النبي وتقبيل منبره فقال لا بأس بذلك قال فأريناه للشيخ تقي الدين بن تيمية فصار يتعجب من ذلك ويقول عجبت أحمد عندي جليل يقوله هذا كلامه أو معنى كلامه وقال وأي عجب في ذلك وقد روينا عن الإمام أحمد أنه غسل قميصا للشافعي وشرب الماء الذي غسله به

Wednesday, December 10, 2014

میری اہلبیت سفینہ نوح کی مانند ہے



السلام علیکم

ابن حجر اپنی کتاب، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية، جلد ۱٦، صفحہ ۲۱۹؛ پر اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ درج کرتے ہیں

3973 -[1] حدثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُفَضَّلٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ الله عَنْه وَهُوَ آخِذٌ بِحَلَقَةِ الْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنْي، وَمَنْ أَنْكَرَ أَنْكَرَ، أنا أَبُو ذَرٍّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” إِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ دَخَلَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ “.