Showing posts with label Sunni Books. Show all posts
Showing posts with label Sunni Books. Show all posts

Saturday, January 16, 2016

کیا مسند امام احمد تحریف شدہ ہے؟

السلام علیکم

مسند امام احمد بن حنبل کا شمار اہلسنت کے معتبر ترین کتب میں ہوتا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اہلسنت کے علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خود ان کے فرزند نے اس کتاب میں روایات کا اضافہ کیا، جو کہ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تحریف شدہ ہے۔ اس لنک پر آپ اس بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں 

نیز ایک روایت سے پہلے بھی ہم استدلال قائم کر چکے ہیں کہ اس میں تحریف ہوئی
یہ لنک ملاحظہ ہو 

آج کچھ اور دلائل آپ کے خدمت میں پیش کرتے ہیں

مسند امام احمد، تحقیق شیخ شعیب الارناؤط، ج 28، ص 195، پر ایک روایت یوں درج کی گئی ہے 

16988 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَذَكَرُوا (1) عَلِيًّا، فَلَمَّا قَامُوا قَالَ لِي: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَتَيْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ، قَالَتْ: تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، آخِذٌ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِهِ، حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ، فَأَجْلَسَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسَ حَسَنًا، وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ - أَوْ قَالَ: كِسَاءً - ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] وَقَالَ: " اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ "

Friday, September 25, 2015

ابن حجر کا ناصبی کو صدوق کہنا، اور بشار عواد کا اس پر تنقید کرنا

السلام علیکم 

ابن حجر کا شمار اہلسنت کے جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ ایک طرف تو ان کی کتاب، فتح الباری کا شمار صحیح بخاری کی مستند ترین شرح میں ہوتا ہے، تو دوسری طرف ان کی تہذیب التہذیب اور تقریب التہذیب اہلسنت کے علم الرجال کی مشہور ترین کتب ہیں

ابن حجر اپنی کتاب، تہذیب التہذیب، ج 8، ص 457 پر ایک راوی بنام لمازۃ بن زبار الأزدي الجهضمي کے بارے میں درج کرتے ہیں کہ یہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا تھا، سب و شتم کرتا تھا، مگر یہ تھا معتبر۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے موصوف اپنی کتاب کے اگلے صفحے پر لکھتے ہیں 

فأكثر من يوصف بالنصب يكون مشهورا بصدق اللهجة والتمسك بأمور الديانة بخلاف من يوصف بالرفض فإن غالبهم كاذب ولا يتورع في الإخبار والأصل فيه أن الناصبة اعتقدوا أن عليا رضي الله عنه قتل عثمان أو كان أعان عليه فكان بغضهم له ديانة بزعمهم ثم انضاف إلى ذلك أن منهم من قتلت أقاربه في حروب علي

Tuesday, May 13, 2014

کیا مسند ابی یعلی میں بھی تحریف ہوئی ہے؟

السلام علیکم
مسند ابو یعلی میں ایک روایت ملتی ہے، جس کی سند جلد ۱۳، صفحہ ۲۴۳؛ میں یوں ہے
 حدثنا أبو كريب حدثنا أبو أسامة عن بريد عن أبي بردة : عن أبي موسى قال
صفحہ ۲۴۷ پر ہمیں اس سند کے ساتھ ایک روایت ملتی ہے، روایت خاصی لمبی ہے سو ہم اس کا ایک حصہ لیں گے
روایت میں آتا ہے
 قال عمر : الحبشية هذه ؟ البحرية هذه ؟ فقالت أسماء : نعم قال عمر : سبقناكم بالهجرة نحن أحق برسول الله - صلى الله عليه و سلم - فغضبت وقالت : كلمة يا عمر

Thursday, February 27, 2014

بخاری اور صحیح بخاری

 
ہم اس مختصر سے مقالے میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی امام بخاری کی کتاب صحیح ہے؟ کیا واقعی اس کتاب میں مذکور روایات میں کسی قوم کی کوئی تحریف وغیرہ نہیں؟ کیا واقعی بخاری قابل اعتماد ہیں؟ اور انہوں نے اپنی روایات ہم تک پہنچانے میں دیانتداری سے کام لیا؟
 
 
ان سب کا جواب آپ کو اس تحریر کے اختتام پر مل جائے گا۔ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے
 

بخاری کے تدلیس کے بارے میں ذھبی کا بیان

Wednesday, February 19, 2014

مسند امام احمد میں تحریفات؟

 
مسند احمد کے اردو مترجم، مولوی ظفر اقبال، اس کتاب کے مقدمے میں، جلد ۱، صفحہ ۱٦؛ پر فرماتے ہیں 


Quote
 
چنانجہ امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ، جو امام احمد کے جانشین اور بہت بڑتے محدث بھی تھے، اور زیر نظر کتاب میں بھی ان کے کچھ اضافہ جات موجود ہیں
 

 
 
اسی طرح آگے صفحہ ۲۰ پر ایک باب باندھتے ہیں کہ