Showing posts with label Sunni Scholars. Show all posts
Showing posts with label Sunni Scholars. Show all posts

Wednesday, February 10, 2016

حضرت عثمان کو بچانے کے لیے سنن دارمی کی روایت میں تحریف؟

السلام علیکم 

سنن دارمی، تحقیق حسین سلیم اسد، ج 2، ص 962 پر ایک روایت یوں ملتی ہے 

1580 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ، [ص:963] فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا زِدْتُ أَنْ تَوَضَّأْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ، فَقَالَ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا؟ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلْيَغْتَسِلْ» 
[تعليق المحقق] إسناده صحيح

Saturday, February 6, 2016

ابن تیمیہ کا سورہ ھل اتی کے بارے میں غلط بیانی کرنا

السلام علیکم 

ابن تیمیہ سلفی و ناصبی حضرات کے سب سے پسندیدہ عالم ہیں۔ موصوف نے اہل تشیع کے رد میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام ہے  منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية؛ اس کتاب کے ج 7، ص 179 پر موصوف یہ دعوی کرتے ہیں 

وَسُورَةُ " هَلْ أَتَى " مَكِّيَّةٌ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ التَّفْسِيرِ وَالنَّقْلِ، لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: إِنَّهَا مَدَنِيَّةٌ.

سورہ ھل اتی مکی ہے، اور اس پر تمام اہل تفسیر و حدیث کا اتفاق ہے۔ کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ مدنی ہے 

Friday, September 25, 2015

ابن حجر کا ناصبی کو صدوق کہنا، اور بشار عواد کا اس پر تنقید کرنا

السلام علیکم 

ابن حجر کا شمار اہلسنت کے جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ ایک طرف تو ان کی کتاب، فتح الباری کا شمار صحیح بخاری کی مستند ترین شرح میں ہوتا ہے، تو دوسری طرف ان کی تہذیب التہذیب اور تقریب التہذیب اہلسنت کے علم الرجال کی مشہور ترین کتب ہیں

ابن حجر اپنی کتاب، تہذیب التہذیب، ج 8، ص 457 پر ایک راوی بنام لمازۃ بن زبار الأزدي الجهضمي کے بارے میں درج کرتے ہیں کہ یہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا تھا، سب و شتم کرتا تھا، مگر یہ تھا معتبر۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے موصوف اپنی کتاب کے اگلے صفحے پر لکھتے ہیں 

فأكثر من يوصف بالنصب يكون مشهورا بصدق اللهجة والتمسك بأمور الديانة بخلاف من يوصف بالرفض فإن غالبهم كاذب ولا يتورع في الإخبار والأصل فيه أن الناصبة اعتقدوا أن عليا رضي الله عنه قتل عثمان أو كان أعان عليه فكان بغضهم له ديانة بزعمهم ثم انضاف إلى ذلك أن منهم من قتلت أقاربه في حروب علي

Sunday, May 3, 2015

سفیان ابن عینیہ اور تدلیس


السلام علیکم

سفیان ابن عینیہ کا شمار اہلسنت کے جید ترین ائمہ میں ہوتا ہے، علامہ ذہبی نے سیر اعلام نبلا، ۸/۴۵۵ میں انہیں امام الکبیر، حافظ العصر اور شیخ الاسلام کہہ کر پکارا

تاہم یہ اپنی تدلیس کے لیے مشہور ہیں

تدلیس کا مطلب یہ کہ یہ جب سند بیان کرتے تھے، تو جس شخص سے روایت لے رہے ہوتے تھے، اس کا نام نہیں لیتے تھے، بلکہ اس سے اگلے بندے کا نام کچھ اس انداز سے لیتے کہ یوں لگتا کہ یہ روایت انہوں نے اس شخص سے لی ہو

مگر علمائے اہلسنت کے مطابق یہ صرف ثقہ راوی سے ہی تدلیس کرتے 

Friday, April 24, 2015

کیا امام احمد بن حنبل متعہ کو حرام سمجھتے تھے یا مکروہ؟


السلام علیکم

احمد بن حنبل کا شمار اہلسنت کے مشہور ترین فقہا میں ہوتا ہے۔ ان کی کتاب مسند احمد بن حنبل اہلسنت کی جید احادیث کی کتب میں شمار ہوتی ہے

اب ایک بات تو طے ہے، کہ جب بھی کوئی بات کسی شخص سے نقل کی جاتی ہے، تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آخر اس کی سند کیسی ہے

اگر میں یہ کہوں کہ فلاں صاحب نے یہ کہا، تو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کیا یہ بات میں نے خود سنی، یا کسی نے مجھے بتائی۔ اور جس نے بتائی، وہ خود کتنا معتبر ہے

اب اس اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے ذرا ہم جائزہ لیتے ہیں کہ امام احمد متعہ کے بارے میں کیا کہتے تھے

امام احمد کے ایک خاص ساتھی تھے، ان کا نام ہے إسحاق بن منصور الکوسج۔

علامہ ذہبی نے سیر اعلام نبلا، ج ۱۲، ص ۲۵۹، پر ان کا تعارف یوں کرایا

الكوسج ( خ ، م ، س ، ت ، ق ) 

الإمام الفقيه الحافظ الحجة أبو يعقوب ، إسحاق بن منصور بن بهرام المروزي ،

امام فقیہ، حافظ، حجت

Thursday, April 23, 2015

صحابی کا نبی پاک کے حکم کی خلاف ورزی، اور نبی پاک کا اس کو بددعا دینا


السلام علیکم 

سب سے پہلے تو ہم مسند احمد سے یہ روایت دیکھتے ہیں
کتاب کے اردو ترجمہ، ج ۱، ص ۵۳٦، ح ۱۳۰۴-۱۳۰۵ میں ۲ اسناد کے ساتھ یہ روایت درج ہے 

 حدثنا عبد الله ، حدثني نصر بن علي ، وعبيد الله بن عمر ، قالا : حدثنا عبد الله بن داود ، عن نعيم بن حكيم ، عن أبي مريم ، عن علي رضي الله عنه ، أن امرأة الوليد بن عقبة أتت النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت : يا رسول الله ، إن الوليد يضربها ، وقال نصر بن علي في حديثه : تشكوه ، قال : " قولي له : قد أجارني " ، قال علي : فلم تلبث إلا يسيرا حتى رجعت ، فقالت : ما زادني إلا ضربا ، فأخذ هدبة من ثوبه ، فدفعها إليها ، وقال : " قولي له : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أجارني " ، فلم تلبث إلا يسيرا حتى رجعت ، فقالت : ما زادني إلا ضربا ، فرفع يديه ، وقال : " اللهم عليك الوليد ، أثم بي مرتين " ، وهذا لفظ حديث القواريري ، ومعناهما واحد ، حدثنا عبد الله ، حدثني أبو بكر بن أبي شيبة ، وأبو خيثمة ، قالا : حدثنا عبيد الله بن موسى ، أخبرنا نعيم بن حكيم ، عن أبي مريم ، عن علي ، أن امرأة الوليد بن عقبة جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تشتكي الوليد أنه يضربها . . . ، فذكر الحديث .

Sunday, April 12, 2015

بخاری اور ابن معین نے بے تحاشہ غلطیاں کیں: عبدالرحمن معلمی


السلام علیکم

عبدالرحمن معلمی کا شمار اہلحدیث کی دنیا میں جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ مشہور اہلحدیث ویب سائٹ، ملتقی اہل الحدیث میں ان کا تعارف کچھ یوں کرایا گیا

هذه ترجمة مختصرة للحبر الرباني والناقد المحدث شيخ نقاد العصر الحديث الزاهد البحاثة الشيخ عبد الرحمن بن يحيى المعلمي اليماني 

یہ مختصر ترجمہ ہے اللہ کی نشانی، نقاد، محدث، آج کے زمانے کے احادیث کے نقادوں کے شیخ، محققین کے زاہد، عبد الرحمن المعلمی الیمانی ۔۔۔۔۔۔

Saturday, March 28, 2015

امام احمد کا حدیث(عمار کو باغی گروہ ہلاک کرے گا) کا جواب دینے سے انکار



السلام علیکم

ابو بکر خلال اپنی کتاب السنۃ، ج ۲ ص ۴٦۲ پر رقمطراز ہیں

720 - أخبرنا أحمد بن محمد بن حازم وعبيد الله بن العباس الطيالسي أن إسحاق بن منصور حدثهم أنه قال لأبي عبدالله قول النبي لعمار تقتلك الفئة الباغية قال لا أتكلم فيه زاد الطيالسي تركه أسلم // في إسناده أحمد بن محمد بن حازم لم أتوصل إلى معرفته

Monday, February 2, 2015

کیا احمد بن حنبل نے اپنی کتاب میں تحریف کی؟



السلام علیکم

احمد بن حنبل کا شمار اہلسنت کے جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ وہ ان کی ایک فقہ کے امام بھی ہیں، اور ان کی مسند احمد کا شمار ان کی معتبر ترین کتب میں ہوتا ہے 

اپنی مسند کے جلد ۵، صفحہ ۲۰۷ پر ایک روایت نقل کرتے ہیں

21848 - حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا أبو معاوية ثنا الأعمش عن شقيق عن أسامة بن زيد قال قالوا له : ألا تدخل على هذا الرجل فتكلمه قال فقال ألا ترون انى لا أكلمه الا أسمعكم والله لقد كلمته فيما بيني وبينه ما دون ان أفتح أمرا لا أحب أن أكون أنا أول من فتحه ولا أقول لرجل أن يكون على أميرا انه خير الناس بعد ما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يؤتى بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار فتندلق أقتاب بطنه فيدور بها في النار كما يدور الحمار بالرحا قال فيجتمع أهل النار إليه فيقولون يا فلان أما كنت تأمرنا بالمعروف وتنهانا عن المنكر قال فيقول بلى قد كنت آمر بالمعروف ولا أتيه وأنهى عن المنكر وآتيه 
تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط الشيخين

Friday, January 16, 2015

عمر کا بی بی فاطمہ کے گھر کو جلانے کی دھمکی، اور ڈاکٹر علی صلابی کی تحریف و غلط بیانی


السلام علیکم

مصنف ابن ابی شیبہ کا شمار اہلسنت کے مستند ترین کتب میں ہوتا ہے۔ جلد ۷، صفحہ ۴۳۲، طبع مکتبۃ الرشد، ریاض؛ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس میں ایک جملہ آتا ہے کہ عمر نے کہا

Monday, November 24, 2014

مولا علی: رسول اللہ کے بھائی اور ساتھی؛ اور شیخ البانی کی غلط بیانی



السلام علیکم

شیخ البانی اپنی کتاب، سلسلہ احادیث ضعیفیۃ، جلد ۱۰، صفحہ ٦۳۸، حدیث ۴۹۴۱؛ پر درج کرتے ہیں کہ 

نبی پاک کی حدیث کہ اے علی! تم میرے بھائی اور دوست ہو؛ یہ ضعیف ہے۔ اسے ابن عبدالبر نے حضرت علی علیہ السلام کے ترجمہ میں لکھا ایسی سند سے لکھا کہ جس میں علتیں ہیں، نیز اس کی متابعت میں ایک اور روایت بھی ہے جو ابن عساکر نے اپنی سے سند سے لکھی، تاہم اس میں بھی ضعف ہے- 

عربی متن یوں ہے


4941 - (أنت أخي وصاحبي) (1) .

Saturday, April 26, 2014

حدیث ثقلین اور علمائے اہلسنت کی تحریفات

السلام علیکم
حدیث ثقلین کا شمار مشہور ترین احادیث میں ہوتا ہے کہ جس میں نبی پاک نے امت کو قرآن و اہلبیت سے تمسک رکھنے کا حکم دیا
یہ وہ حدیث ہے کہ جس کو چھپانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے، اور مختلف تاویلات کے ذریعے بھی سادہ لوح برادران اہلسنت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے
مگر انتہا تو یہ ہے کہ علمائے اہلسنت اس میں تحریف کرتے بھی نہیں جھجکتے
مشہور سنی عالم، شیخ حسین سلیم اسد، مسند الحمیدی کے جلد ۱، صفحہ ۱۱؛ پر ایک روایت کی تحقیق کرتے ہیں کہ جس میں آتا ہے کہ نبی پاک نے کہا کہ میں تم میں قرآن و سنت چھوڑے جاتا ہوں، اس کی تحقیق میں موصوف حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ 
یہ حدیث صحیح ہے، اور مسلم نے اپنی صحیح میں فضائل الصحابہ (۲۴۰۸) کے باب فضائل علی میں درج کیا ہے- نیز دیکھیے مسند الموصلی، حدیث ۱۰۲۱، ۱۱۴۰

Monday, April 7, 2014

اہلسنت عالم،ابن ابی خیثمہ کا بنی امیہ کی محبت میں روایت میں تحریف کرنا

 
السلام علیکم
 
 
ایک روایت مسند ابی یعلی، جلد ۱۳، صفحہ ۳۴۲؛ پر درج ہے کہ 
 
 
ابو برزہ نے کہا کہ رسول اللہ اپنی زندگی میں بنی امیہ، بنی ثقیف اور بنی حنیفہ سے نفرت کرتے تھے
 
محقق کتاب، شیخ حسین سلیم نے سند کو حسن قرار دیا
 

Sunday, April 6, 2014

حدیث ثقلین پر شیخ شعیب الارناوط کی تحقیق پر ایک نظر

 
السلام علیکم
 
 
شیخ شعیب الارناوط کا شمار اہلسنت کے مشہور علمائے رجال میں ہوتا ہے۔ اور کئی کتب میں مذکور اسناد پر انہوں نے تحقیق کی ہے
 
انہی میں سب سے مسند احمد بھی شامل ہے
 
 
مسند احمد کے جلد ۳۵، صفحہ ۴۵٦؛ پر ایک روایت آتی ہے کہ 
 
 
زید بن ثابت نے نبی پاک سے نقل کیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں تم میں ۲ خلیفہ چھوڑے جاتا ہوں: اللہ کی کتاب جو کہ ایک رسی ہے زمین و آسمان کو ملائے ہوئے، اور میرے عترت اہلبیت۔ یہ ہر گز جدا نہیں ہوں گے جب تک حوض پر نہ آ جائیں

Saturday, March 15, 2014

وطی فی دبر: اہلسنت کی نظر میں

 
السلام علیکم

 
کئی سارے برادران اہلسنت اس مسئلے سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کے ہاں بھی ایسے علماء گذرے ہیں کہ جو اس کے اباحت و جائز ہونے کے قائل تھے، اس وجہ سے ہم نے سوچا کہ اس پر علمائے اہلسنت کے اقوال نقل کیے جائیں
 
 
ابن عربی اپنی کتاب، احکام القرآن ، جلد ۱، صفحہ ۲۳۸، طبع دار الكتب العلمية، پر فرماتے ہیں کہ 
 
 
عورتوں کے دبر میں جماع کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے ، اور کثیر گروہ نے اس کو جائز کہا ہے۔ ابن شعبان نے اپنی کتاب جماع النسوان و احکام القرآن میں انہوں جمع کیا ہے، اور اس کے جائز ہونے کو صحابہ، تابعین، مالک کی طرف کثیر روایت سے ذکر کیا ہے۔ اور بخاری نے اپنی صحیح میں ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ نافع نے کہا کہ جب ابن عمر تلاوت کرتے، تو بات نہ کرتے جب تک فارغ نہ ہو جاتے، ۔ ایک دن جب سورۃ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے، جب اس جگہ پر پہنچے، تو کہا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کس بارے میں نازل ہوئی؟ میں نے کہا نہیں۔ کہا فلاں فلاں بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Friday, March 14, 2014

ابن تیمیہ کا غلط حوالے دینا

 
السلام علیکم

 
ابن تیمیہ کا شمار نواصب کے صف اول کے علما میں ہوتا ہے، اور وہ اسے شیخ الاسلام کہتے ہیں

 
انہوں نے ایک کتاب لکھی، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية، اور اس میں شیعوں کو رد کرنے کو کوشش کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعہ دشمنی میں کچھ ایسے اندھے ہوئے، کہ غلط حوالے دینا شروع ہو گئے

 
ملاحظہ ہو

 
اپنی کتاب کے جلد٦، صفحہ ٦۹؛ پر کہتے ہیں کہ 
 
 
اور ان لفظوں میں کہ اگر میں تمہاری طرف نبی بنا کر نہ بھیجا جاتا، تو عمر کو مبعوث کیا جاتا۔ یہ الفاظ ترمذی کے ہیں

Saturday, March 1, 2014

امام حسین کا قتل اور یزید: علمائے اہلسنت کی نظر میں

 
ہم اس مختصر سی تحریر میں مشہور علمائے اہلسنت کے نام درج کریں گے، اور ان کے حوالوں سے بات کریں گے کہ امام حسین علیہ السلام کے قتل میں کون ملوث تھا
 
 
علامہ ذہبی اپنی تاریخ الاسلام، جلد ۲، صفحہ ٦۵؛ پر فرماتے ہیں
 
 
جو یزید نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا، وہ کیا۔ اور امام حسین اور ان کے بھائیوں اور آل کو قتل کیا، اور وہ شراب پیتا تھا، اور ان کاموں کو سر انجام دیتا تھا کہ جو منع تھیں۔ لوگ اس سے نفرت/بغض کرتے تھے۔ اور کئی لوگوں نے اس کے خلاف خروج کیا۔ اور اللہ نے اس کی عمر میں برکت نہیں دی

Thursday, February 27, 2014

ابن تیمیہ اور ابن قیم کا روایت میں تحریف کرنا

 
ابن تیمیہ اور ابن قیم کا شمار اہلسنت کے صف اول کے علما میں ہوتا ہے۔
 
 
 ابن عبدالبر نے اپنی کتاب، الاستذكار، جلد ۱، صفحہ ۱۸۵، طبع دار الكتب العلمية - بيروت؛ پر ایک روایت درج کی، اس میں فرماتے ہیں کہ 
 
 
ابن عباس نے رسول اللہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا کہ جب کوئی اپنے مومن بھائی کی قبر پر گذرتا ہے جسے وہ دنیا میں جانتا ہو، اور اسے سلام کرے، تو وہ اسے پہچان لیتا ہے، اور سلام کا جواب دیتا ہے
 
 
عربی متن یوں ہے

بخاری اور صحیح بخاری

 
ہم اس مختصر سے مقالے میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی امام بخاری کی کتاب صحیح ہے؟ کیا واقعی اس کتاب میں مذکور روایات میں کسی قوم کی کوئی تحریف وغیرہ نہیں؟ کیا واقعی بخاری قابل اعتماد ہیں؟ اور انہوں نے اپنی روایات ہم تک پہنچانے میں دیانتداری سے کام لیا؟
 
 
ان سب کا جواب آپ کو اس تحریر کے اختتام پر مل جائے گا۔ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے
 

بخاری کے تدلیس کے بارے میں ذھبی کا بیان

Saturday, February 15, 2014

امام ابو حنیفہ: حقیقتوں کے آئینے میں

 
یہ مقالہ اس بات کے پیش نظر لکھا جا رہا ہے کہ پاکستان و بھارت کے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد ابو حنیفہ کو امام اعظم مانتی ہے۔ سو سوچا کہ کیوں نہ ایک مقالہ لکھا جائے جس میں اس بات کو واضح کیا جائے کہ اہلسنت کے جید علماء کی ان صاحب کے متعلق کیا رائے تھی
 
 
ہم کوشش یہ کریں گے کہ جید علماء کی رائے مستند اقوال کی روشنی میں پیش کریں
 
 
اور اس ضمن میں ان علماء کے متعلق خود دیگر علماء نے کیا کہا، یہ بھی پیش کریں تا کہ قارئین اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ بولنے والے شخص کا رتبہ کیا ہے
 
 
 أبا بكر بن أبي داود السجستاني
 
 
ان کے متعلق علامہ ذھبی اپنی کتاب سیر اعلام نبلاء میں لکھتے ہیں کہ یہ امام، علامہ، حافظ، بغداد کے شیخ، کتابوں کے مصنف تھے