Friday, September 18, 2015

اہلسنت کی مستند روایات میں تحریف قرآن کا تذکرہ


السلام علیکم

کئی بار میں نے یہ دیکھا ہے کہ تکفیری حضرات اہل تشیع پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ تحریف قرآن کے قائل ہیں۔ اور اس وجہ سے کافر ہیں

 یہ مقالہ صرف اس مقصد سے لکھا جا رہا ہے کہ وہ ایک بار اپنی کتب کو بھی دیکھ لیں کہ ان کی کتب میں کیا آتا ہے۔ خود وہ ہستیاں جن کی وہ بے حد احترام کرتے ہیں، وہ کن باتوں کے قائل ہیں

 اس ضمن میں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن روایات سے استدلال کیا جائے گا، وہ مستند ہوں تا کہ کوئی یہ گلہ نہ کرے کہ یہ تو روایت ہی ضعیف ہے

بسم اللہ کرتے ہیں

Friday, September 4, 2015

حضرت ابو ہریرہ کا اپنی بیوی سے برتاؤ

السلام علیکم 

طبقات ابن سعد، اردو ترجمہ، جلد 2، حصہ چہارم، صفحہ355 پر 2 روایات آتی ہیں۔ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ہم ان روایات کا عربی متن بھی پیش کریں گے تاکہ آپ کی خدمت میں سند کو بھی پیش کریں، اور راویان کی توثیق بھی پیش کر دیں

روایت آتی ہے 

قال: أخبرنا هَوْذَة بن خليفة قال: أخبرنا ابن عَوْن عن محمد عن أبي هريرة قال: أكْرَيْتُ نفسي من ابنة غزوان على طعام بطني وعُقبة رجلي، قال فكانت تكلّفني أن أرْكَبَ قائمًا وأن أردي أو أورِدَ حافيًا، فلمّا كان بعد ذلك زَوّجنيها الله فكلّفتُها أن تَرْكَبَ قائمة وأن تَرِدَ أو تَرْدِيَ حافية.

Thursday, September 3, 2015

وہابی عالم کا قرآن سے صحابہ کے فاسق ہونے کی دلیل دینا

السلام علیکم 

وہابی عالم، محمد بن صالح العثيمين، اپنی کتاب، شرح مختصر التحرير ص669-670، پر تحریر کرتے ہیں 

وقوله: "وَالصَّحَابَةُ عُدُولٌ، وَالمُرَادُ: مَنْ لَمْ يُعْرَفْ بِقَدْحٍ"؛ يعني: المراد من قوله: إنَّ الصحابة عدول مَن لم يُعرَف بقَدْح، فأمَّا مَن عُرِفَ بقدْح فإنَّه ليس بعَدْل حسَب القدح الذي فيه.
ويدلُّ لذلك أنَّ الله تعالى قال: (والذين يرمونَ المُحصناتِ ثمَّ لم يأتوا بأربعة شهداءَ فاجلدوهم ثمانين جلدةً ولا تقبلوا لهم شهادةً أبداً وأولئكَ هُمُ الفاسقون * إلا الذين تابوا من بعد ذلك وأصلحوا) [النور:4-5]، فدلَّ ذلك على أنَّ فيهم الفَسَقة، وأنَّ مَن رمى محصنةً ولو في عهد الرسول فإنَّه فاسقٌ يجبُ أنْ يُجلَد ثمانين جلدةً، وأن لا تُقبَل له شهادةٌ أبداً، فالحاصل: أنَّ الصحابة عُدولٌ إلَّا مَن عُرف بقدحٍ".

اہلسنت کی مستند روایت کے مطابق عمر کا بی بی فاطمہ کے گھر کو جلانے کی دھمکی

السلام علیکم 

اس سے پہلے بھی ہم اس روایت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں، اور ایک سنی عالم کی تحریف کا حال بھی لکھ چکے ہیں، جبکہ وہ خود اس سند کے مستند ہونے کے قائل تھے۔ لنک ملاحظہ ہو

عمر کا بی بی فاطمہ کے گھر کو جلانے کی دھمکی، اور ڈاکٹر علی صلابی کی تحریف و غلط بیانی


یہ روایت ایک اور کتاب میں بھی موجود ہے۔ اس کتاب کا نام ہے المُذَكِّرُ والتَّذْكيرُ والذِّكْر ص91 ح19 ط. دار المنار، الرياض، اور یہ مشہور عالم الحافظ أبو بكر أحمد بن عمرو بن أبي عاصم( المتوفى سنة 287 هـ )کی ہے

روایت کچھ یوں ہے کہ  حضرت عمر تک خبر پہنچی کہ بی بی فاطمہ علیہ السلام کے گھر میں لوگ جمع ہیں، جس پر وہ ادھر گئے، اور بی بی سے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ عزیز آپ کے والد ہیں، اور اس کے بعد آپ ہیں، مگر مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہیں۔ خدا کی قسم! اگر یہ بات مجھے پہنچی تو میں اس گھر کو چلا دوں گا

عربی متن یوں ہے

Saturday, August 29, 2015

شیطان کا حضرت سلیمان کی بیویوں کے ساتھ بدفعلی کرنا

السلام علیکم

ابن ابی حاتم کا شمار اہلسنت کے جید ترین علماء میں ہوتا ہے۔ وہ ان کے علم جرح و تعدیل کے بڑے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں، اور ان کی رائے کو کافی وقعت دی جاتی ہے۔ انہوں نے ایک تفسیر لکھی کہ جس کے سارے روایت کو انہوں نے مسنتد جانا۔ اس تفسیر کو ابن کثیر و سیوطی وغیرہ نے کافی اہمیت دی، اور جا بجا اسے نقل کیا

ابن ابی حاتم اپنی تفسیر کے ج 10، ص 3241-3242 پر ایک واقعہ نقل کرتے ہیں پورا واقعہ تو نقل نہیں کریں گے، جتنا ہمارے موضوع سے متعلق ہے، وہی ترجمہ کریں گے
فرماتے ہیں کہ

قَوْلُهُ تَعَالَى: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ
18355 - وَبِسَنَدٍ قَوَيٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي فَأَعْطَتْهُ فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ، فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ الْخَلَاءِ قال لها: هَاتِي خَاتَمِي فَقَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ: أَنَا سُلَيْمَانُ إِلا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ.
فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدَّ عَلَى سليمان عليه السلام سلطانه ألْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ «1» سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالُوا لهن أيكون من سليمان شيء؟ قلنا: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ، وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ 

Friday, August 28, 2015

کیا صرف صحیح حدیث کی بنیاد ہر اہلسنت کے ہاں عقیدہ قائم کیا جا سکتا ہے؟

السلام علیکم

کئی بار میں نے یہ دیکھا کہ برادران اہلسنت صرف قرآن سے دلیل مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم کچھ جید علماء کے اقوال پیش کریں گے۔

سب سے پہلے ہم ابن تیمیہ کا قول دیکھتے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں

مذهب أصحابنا أن أخبار الآحاد المتلقاة بالقبول تصلح لإثبات أصول الديانات

Tuesday, August 25, 2015

صحابی کا خواتین کے ساتھ "کھیلنا"

السلام علیکم 

ایک صحابی گذرے ہیں، جن کا نام تھا جلیبیب۔
موصوف کے متعلق امام احمد ہمیں اپنی مسند میں آگاہ کرتے ہیں کہ جب بھی وہ کسی خاتون کے پاس سے گذرتے، ان کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیتے
یہاں تک کہ ایک اور صحابی نے تو باقاعدہ اپنی بیوی کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر وہ تمہارے پاس آیا، تو میں ایسا ایسا کر دوں گا

مسند احمد کے اردو ترجمہ، ج 9، ص 17، ح 20022 پر یہ روایت موجود ہے۔ ہم صرف کچھ ہی جزو لیں گے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ، يَمُرُّ بِهِنَّ وَيُلَاعِبُهُنَّ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبٌ؛ فَإِنَّهُ إِنْ دَخَلَ عَلَيْكُمْ، لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ