السلام علیکم
اس سے پہلے بھی ہم اس روایت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں، اور ایک سنی عالم کی تحریف کا حال بھی لکھ چکے ہیں، جبکہ وہ خود اس سند کے مستند ہونے کے قائل تھے۔ لنک ملاحظہ ہو
عمر کا بی بی فاطمہ کے گھر کو جلانے کی دھمکی، اور ڈاکٹر علی صلابی کی تحریف و غلط بیانی
یہ روایت ایک اور کتاب میں بھی موجود ہے۔ اس کتاب کا نام ہے المُذَكِّرُ والتَّذْكيرُ والذِّكْر ص91 ح19 ط. دار المنار، الرياض، اور یہ مشہور عالم الحافظ أبو بكر أحمد بن عمرو بن أبي عاصم( المتوفى سنة 287 هـ )کی ہے
روایت کچھ یوں ہے کہ حضرت عمر تک خبر پہنچی کہ بی بی فاطمہ علیہ السلام کے گھر میں لوگ جمع ہیں، جس پر وہ ادھر گئے، اور بی بی سے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ عزیز آپ کے والد ہیں، اور اس کے بعد آپ ہیں، مگر مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہیں۔ خدا کی قسم! اگر یہ بات مجھے پہنچی تو میں اس گھر کو چلا دوں گا
عربی متن یوں ہے
روایت کچھ یوں ہے کہ حضرت عمر تک خبر پہنچی کہ بی بی فاطمہ علیہ السلام کے گھر میں لوگ جمع ہیں، جس پر وہ ادھر گئے، اور بی بی سے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ عزیز آپ کے والد ہیں، اور اس کے بعد آپ ہیں، مگر مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہیں۔ خدا کی قسم! اگر یہ بات مجھے پہنچی تو میں اس گھر کو چلا دوں گا
عربی متن یوں ہے